عمران اور طاہرالقادری کی جائیدادوں کی قرقی کی کارروائی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی جائیداد کی قرقی کے لیے ضابطے کی کارروائی شروع کردی ہے۔

عدالت نے ریونیو ڈیپارٹمنٹ اور اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ سے ان دونوں ملزموں کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے متعقلہ اداروں کو اس ضمن میں جلد از جلد رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ عمران خان اور طاہرالقادری کے جائیدادیں قرقی ہونے سے متعلق ضابطے کی کارروائی کا آغاز سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے اور دھرنے کے دوران اسلام آباد پولیس کے ایس ایس پی کو تشدد کا نشانہ بنانے مقدمات میں کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت ان دونوں جماعتوں کے سربراہوں کو مقدمات میں پیش نہ ہونے پر پہلے ہی اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

عمران خان کا موقف ہے کہ چونکہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اس لیے وہ ان مقدمات میں ضمانت نہیں کروائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption عمران خان کا موقف ہے کہ چونکہ یہ مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اس لیے وہ ان مقدمات میں ضمانت نہیں کروائیں گے

اسلام آباد پولیس اس ضمن میں عدالت میں رپورٹ جمع کروا چکی ہے کہ دونوں ملزموں کو گرفتار کرنے کے لیے متعدد بار اُن کے گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن وہ وہاں پر موجود نہیں تھے۔

عدالت نے اس رپورٹ پر حیرت کا بھی اظہار کیا تھا جس کے بعد اُنھوں نے عمران خان اور طاہرالقادری کو اشتہاری قرار دے کر اُن کے گھروں اور عام مقامات پر اشتہارات آویزاں کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔

حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی دانیال عزیز نے ان مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عدالت رینجرز کے حکام کو ان دونوں اشتہاری ملزموں کی گرفتاری کا حکم دے۔

تاہم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اس پر ابھی کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا۔

اسی بارے میں