سندھ سے سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں کے خلاف لانگ مارچ

لانگ مارچ

پاکستان کے صوبہ سندھ سے لاپتہ سیاسی کارکنوں کی بازیابی کے لیے حیدرآباد سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اتوار کو کراچی پریس کلب پہنچے گا، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں ان کا استقبال کریں گی۔

* ’لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں مارا جا رہا ہے‘

* 2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے: ایچ آر سی پی

اس لانگ مارچ کی ابتدا 5 جولائی کو حیدرآباد پریس کلب سے کی گئی تھی، جو اس وقت جامشورو اور ٹھٹہ سے گزرتا ہوا کراچی کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔

مارچ کا انتظام وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں لاپتہ افراد صابر چانڈیو، خادم آریجو، ہدایت لوھر، سمیع کاکیپوتہ، مرتضی جونیجو، مختار عالمانی اور غلام رضا جروار کے اہل خانہ بھی شامل ہیں۔ جبکہ جئے سندھ کے مختلف دھڑوں نے مارچ کی حمایت کی ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کےچیئرمین پنھل ساریو کا کہنا ہے کہ ایسے 51 افراد ہیں جنہیں مختلف علاقوں سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے، ان میں کچھ تو سیاسی کارکن ہیں لیکن دس کے قریب افراد کا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔

’مارچ کے دوران ہی مختلف علاقوں سے 11 کے قریب مزید افراد لاپتہ ہوئے۔ انہیں اور دیگر لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی ان پر کوئی فرد جرم عائد ہوتی۔ گذشتہ دس سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ جس میں سینکڑوں لوگ لاپتہ ہوئے، جن میں کچھ تو بازیاب ہوئے اور کئی کی تشدد زدہ لاشیں ملیں۔‘

اس لانگ مارچ میں خواتین بھی شامل ہیں، جن میں ایک صابر چانڈیو کی بہن سندھو چانڈیو ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’صابر چانڈیو 17 جنوری کو جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کی سالگرہ میں شرکت کے بعد واپس آ رہے تھے کہ دادو سے لاپتہ ہوگئے، تین ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن ان کا کچھ معلوم نہیں ہو رہا ہے۔ ‘

صابر چانڈیو جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ سے وابستہ رہے ہیں، سندھو چانڈیو کا کہنا ہے کہ صابر پر اگر کوئی الزام ہے تو اس ملک میں قانون موجود ہے اس کے تحت عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

’تین ماہ کے دوران صدمے سے ہمارے ابو انتقال کر گئے، والدہ لاڑکانہ پریس کلب کے باہر بھوک ہڑتال پر ہیں، صابر کے چھوٹے چھوٹے بچے پریشان ہیں۔ ‘

ہدایت لوہر نصیرآباد شہر سے لاپتہ ہیں، مارچ میں شریک ان کے بیٹے سارنگ لوہر کا کہنا ہے کہ 17 اپریل کو ان کے والد جو پرائمری استاد ہیں ڈیوٹی پر گئے تھے، کہ چار اہلکار پولیس جو وردی اور دو اہلکار سول وردی میں آئے اور انہیں کہا کہ تھانے چلیں پوچھ گچھ کرنی ہے، جس کے بعد آپ کو چھوڑ دیں گے۔

’جب وہ واپس نہیں آئے تو ہم تھانے پر گئے جہاں پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد لاڑکانہ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی لیکن تین ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے ان کا کوئی اتا پتہ نہیں مل رہا ہے، کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ انہیں آخر کیوں اٹھا کر لاپتہ کیا گیا ہے۔‘

سارنگ چانڈیو کا کہنا ہے کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ عسکریت پسند تنظیم نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے جو سندھ کے حقوق کی بات کرتی ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز سندھ کےچیئرمین پنھل ساریو کا کہنا ہے کہ’اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ پہلے دن سے یہاں سیاسی انتقام پسندی کا رجحان جاری ہے ۔ وہ لوگ جو نظریات عقائد یا کوئی نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں تو ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی یہاں برائے نام ہیں۔ ‘

’وہ چاہتے ہیں کہ یہاں خوف و ہراس ہو تاکہ لوگ سیاست سے دور رہیں اور خاص طور پر ان جماعتوں سے جو انسانی حقوق، قومیت اور اپنے صوبے کے وسائل کی بات کرتی ہیں۔‘

قاسم آباد حیدرآباد سے رانجھو بھٹو لاپتہ ہے۔ ان کی خالہ رانی بھٹو کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے گھر میں داخل ہو کر بھتیجے رانجھو بھٹو کا معلوم کیا اس کی عدم دستیابی پر سندھ یونیورسٹی کے طالب علم اویس بھٹو کو ساتھ لے گئے جو مہمان تھا۔

رانی بھٹو کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی مظفر بھٹو لاپتہ ہونے کے بعد تشدد میں ہلاک ہو گیا، جس کے بعد ان کے دو بھائی وطن چھوڑ کر جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں اس کے علاوہ دو کزن کو لاپتہ کیا گیا۔

’یہ سب کچھ اسی وجہ سے کیا جا رہا ہے کہ ان کا تعلق جئے سندھ متحدہ محاذ سے ہے اور وہ آزادی پہ یقین رکھتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں