ایسا لگتا ہے کہ میں گھر دوبارہ لوٹ آئی ہوں: ناز بلوچ

ناز بلوچ تصویر کے کاپی رائٹ NAZZ BALOCH/ FACEBOOK

'پی ٹی آئی نے نوجوانوں کا نعرہ لگایا تبدیلی کا نعرہ لگایا لیکن آج مجھے بہت افسوس ہوتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ تبدیلی کا نعرہ لگاتے لگاتے یہ پارٹی خود تبدیل ہو گئی اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ وہ سحر نہیں جس کی ہمیں تلاش تھی۔'

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما ناز بلوچ نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ کے ساتھ اپنی پارٹی کو الوداع کہہ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا۔

ہاؤس جاب سے پارلیمنٹ ہاؤس تک

’پیپلز پارٹی میں ٹوٹ پھوٹ کی خبریں بے بنیاد ہیں‘

’جیسےعمران پی پی پی میں شامل ہو رہے ہوں‘

کراچی سے سیاست کا آغاز کرنے والی نوجوان سیاسی رہنما ناز بلوچ نوے کی دہائی میں بحیثیت طالبعلم شوکت خانم ہسپتال کی فنڈنگ مہم کو دیکھ کر عمران خان سے بہت متاثر ہوئیں لیکن ایک طویل عرصے تک ان کا آئیڈیل بینظیر ہی رہیں۔

بینظیر کی ہلاکت کے بعد جو خلا پیدا ہوا ناز بلوچ اس میں عمران خان کے سیاسی نظریات سے متاثرہ ہوئیں۔ شاید یہی وجہ انھیں اپنے والد عبداللہ بلوچ جو کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی تھے کی راہ کے بجائے پی ٹی آئی کی جانب لے گئی۔

بلوچ خاندان سے تعلق رکھنے والی ناز بلوچ کو پہلے پی ٹی آئی کے میڈیا ونگ میں ایڈوائزر کی ذمہ داریاں دی گئیں پھر وہ مرکزی نائب صدر منتخب ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Naz baloch

وہ پہلی خِاتون تھیں جنھیں عمران خان نے کراچی سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ دیا۔ اگرچہ وہ انتخاب جیت کر کامیاب نہیں ہو سکیں لیکن دھرنے ہوں یا پی ٹی آئی کا کوئی بھی ایونٹ اور خاص طور پر میڈیا میں نظر آنے والی سیاسی جنگ اور ٹی وی پروگرامز میں پارٹی کا دفاع ہر پلیٹ فارم پر ناز بلوچ پیش پیش نظر آتی رہیں۔

انھیں پی ٹی آئی کا سوشل فیس اور عمران خان کی پالیسیوں کا دفاع کرنے والے بہت فعال اور مقبول پارٹی رہنماؤں میں شامل کیا جاتا تھا۔

پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ناز بلوچ نے پارٹی چھوڑنے کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 'پاکستان تحریک انصاف کا فوکس پنجاب کی جانب ہے، مرکز کی سیاست کی جانب ہے، اگر سندھ کی جانب ہوتا تو 2013 کے انتخابات میں جو آٹھ لاکھ ووٹ ہم نے لیے وہ اب سکڑ کر سینکڑوں پر نہ آئے ہوئے ہوتے۔'

انھوں نے کہا کہ پارٹی کے ساتھ ساتھ میرا طویل وقت گزرا اس پر کیچڑ نہیں اچھالنا چاہتی تاہم انھوں نے شکوہ بھی کیا کہ خان صاحب جب چند گھنٹوں کے لیے کراچی آتے ہیں تو انھیں ورکرز سے دور رکھا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کے دائیں بائیں وہ لوگ کھڑے ہیں جو نہ نوجوانوں میں سے ہیں اور نہ ہی سندھ سے ان کا تعلق ہے۔

ناز بلوچ نے یہ بھی شکایت کی کہ تمام تر فیصلوں میں پارٹی کے مرد حضرات کی نسبت عورتوں کو نمائندگی نہیں دی جاتی۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے تو ناز بلوچ کی جانب سے پارٹی چھوڑنے پر کوئی ردعمل ظاہرنہیں کیا تاہم پارٹی کے سینیئر رہنما شفقت محمود نے ایک پریس کانفرنس میں ان کے جانے کو ’کچھ خاص بڑی خبر‘ قرار نہیں دیا۔

'دیکھیں احسن اقبال اور چوہدری نثار کے جو ایشوز ہیں اور جس طریقے سے دھڑے بندی مسلم لیگ ن میں ہو رہی ہے اس کا کیا مقابلہ کر سکتے ہیں آپ ایک ہماری ایسی خاتون سے جس کا کوئی عہدہ بھی نہیں ہے۔'

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ناز بلوچ کے جانے کو پی ٹی آئی کے لیے ایک نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔ جن میں پی ٹی آئی کی ہی رہنما فوزیہ قصوری بھی شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ناز بلوچ نے پارٹی کے امور پر تنقید تو کی لیکن کہا کہ وہ گزارش بھی کرتی ہیں کہ پارٹی کے دیگر ناراض کارکنان اور آواز اٹھانے والوں کی آواز سنی جائے۔

حالیہ عرصے میں پیپلز پارٹی کی سابق رہنما فردوس عاشق اعوان سمیت نذر محمد گوندل، امتیاز صفدر وڑائچ اور نوابزادہ غضنفر گل نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔

نوجوان طبقے کی نمائندگی کی خواہاں ناز بلوچ جو کل تک عمران خان کو تبدیلی اور نوجوانوں کی آواز قرار دیتی تھیں آج وہ یہ خوبیاں بلاول بھٹو زرداری میں دیکھ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں گھر دوبارہ آگئی ہوں۔‘

اسی بارے میں