صادق اور امین کو تو بخش دیں

پالیمان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان دنوں پاناما کیس کے تناظر میں پھر آئین کا آرٹیکل 62-63 زیرِ بحث ہے کہ جس میں مجلسِ شوری (پارلیمان) کے رکن بننے کی اہلیت درج ہے۔ اور اہلیت یہ ہے کہ وہی (مسلمان) شخص رکنِ پارلیمان بن سکتا ہے جو اچھے کردار کا حامل ہو اور شعائرِ اسلام کی خلاف ورزی کے لیے نہ جانا جاتا ہو۔ اسلامی تعلیمات کا مناسب علم رکھتا ہو۔ لازمی مذہبی فرائض پورے کرتا ہو اور کبیرہ گناہوں میں ملوث نہ ہو۔ وہ عاقل ہو، فاسق نہ ہو اور صادق و امین ہو۔

بظاہر یہ مثالی شرائط ہیں۔ کون چاہے گا کہ وہ جسے منتخب کر رہا ہے وہ کوئی برے کردار کا فاسق و فاجر ہو۔ مگر کیا کوئی صادق اور امین بھی ہو سکتا ہے؟ یہ وہ دو صفات و القابات ہیں جو صرف رسول اللہ سے جڑے ہوئے ہیں اور تب سے ہیں جب اعلانِ نبوت بھی نہ ہوا تھا۔ اگر صادق اور امین ہونا اتنا آسان ہوتا تو مکہ میں رسول اللہ سے پہلے یا بعد میں کسی اور کو بھی صادق اور امین کا لقب ملتا۔

صادق اور امین کبیرہ چھوڑ صغیرہ گناہ میں بھی ملوث نہیں ہو سکتا۔ یعنی صادق اور امین کے ساتھ معصوم ہونے کی شرط جڑی ہوئی ہے اور معصوم بس نبی ہیں۔

لہذا کسی آئینی شق میں کسی عام انسان سے راست گوئی، ایمانداری، بلند کرداری اور خلیق ہونے کی توقع تو ہو سکتی ہے مگر صادق اور امین ہونے کی توقع کیسے باندھی جا سکتی ہے؟ جس نے ان پاکیزہ اصطلاحات کو باہوش و حواس آئین کا حصہ بنایا اس کے بارے میں اگر کہوں کہ ضیا الحق صادق اور امین تھے تو کیا آپ مان لیں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صادق اور امین ہونا تو خیر ناممکن سی بات ہے خود یہی شرط کہ رکنِ پارلیمان اسلام کے لازمی فرائض پر عمل پیرا ہو اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہ ہو کس قدر کٹھن ہے۔

جب حضرت بہاالدین زکریا ملتانی کا وصال ہوا تو وصیت کے مطابق اعلان ہوا کہ ایسا شخص جنازہ پڑھائے جس سے قصداً کوئی نماز قضا نہ ہوئی ہو۔ ہزاروں کے مجمع میں سے بس ایک شخص چہرے پر رومال ڈالے زیرِلب کہتے ہوئے آگے بڑھا ’خود تو چلے گئے دوسروں کے راز کھول گئے‘۔ اور اس شخص کا نام تھا سلطانِ دہلی شمس الدین التتمش۔

سرکردہ سیاستداں جاوید ہاشمی کہتے ہیں کہ آرٹیکل 62 صرف پارلیمنٹیرینز پر ہی کیوں لاگو ہے۔ جنرل، جج اور بیوروکریٹس اتنے اچھے آرٹیکل کے احاطے سے کیوں باہر ہیں۔ کیا ان کے بارے میں فرض کر لیا گیا ہے کہ وہ تو ہوتے ہی راست گو، ایماندار، فسق و فجور سے پاک اور پابندِ صوم و صلوۃ ۔ یا ان کے لیے یہ سب ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا قانون سازوں کے لیے ہے۔

الیکشن کمیشن پابند ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار کے بارے میں یہ اطمینان کرے کہ وہ آرٹیکل 62 میں صادق اور امین کی شرائط پر پورا اترتا ہے۔ گویا یہ تو طے ہے کہ کمیشن کے ارکان اور کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے والے پریزائیڈنگ افسر صادق اور امین ہیں۔

اب آپ زرا ان تمام ناموں کو یاد کیجیے جو اس وقت آرٹیکل 62 کی شرائط پر پورا اترنے کے بعد اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ راست گو، فسق و فجور سے دور، شعائرِ اسلامی کے پابند، صادق اور امین۔ عمران خان، مولانا فضل الرحمان، اسفند یار ولی، محمود خان اچکزئی، شیخ رشید، فریال تالپور، شریف خاندان، حنیف عباسی، ثنا اللہ زہری، رانا ثنا اللہ اور چل سو چل سو چل۔۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بائبل کے مطابق حضرتِ عیسی کے سامنے ہجوم ایک عورت کو پکڑ کے لایا کہ یہ زانیہ ہے۔ اسے سنگسار کیا جائے۔ آپ نے فرمایا منظور۔ مگر پہلا پتھر وہ مارے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ مجمع چھٹنے لگا۔

کسی بھی مغربی و مشرقی جمہوریت کے آئین میں آرٹیکل 62 نہیں۔ کیونکہ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ قانون کو امانت سمجھتے ہوئے قانون سے بالا کوئی کام نہیں کریں گے۔ اور کریں گے تو خود بخود قانونی احتساب کی زد میں آ جائیں گے۔ لہذا وہاں کسی کا مواخذہ یا سزا ملنا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی۔

کسی بھی غیر سنجیدہ اور منافق معاشرے میں اصطلاحات اور ان کی روح اور ان کے تاریخی و مذہبی سیاق و سباق کے ساتھ قانون کے نام پر جو کھلواڑ ہوتا ہے وہی پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہ واحد ملک ہے جہاں ایک ہزار سے زائد بلند کردار مثالیے پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔ کسی میں یہ جرات نہیں کہ آرٹیکل 62 میں موجود اہلیت کی شرائط میں پائے جانے والے تضادات و ابہام و ناممنکنات کو دور کرنے کے بارے میں سوچے۔

جس نے ایسا سوچا باقی مجمع اسے فاسق و فاجر کہتے ہوئے پیچھے دوڑ پڑے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں