پشاور:خودکش حملے میں فرنٹیئر کور کے میجر سمیت دو اہلکار ہلاک

پاکستان
Image caption دھماکے میں ایف سی کی دو گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک خودکش حملے میں ایک فوجی افسر سمیت دو اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح پشاور کے علاقے حیات آباد میں ہونے والے اس حملے میں نیم فوجی دستے ایف سی کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جو اپنے ہیڈکوارٹر کی جانب جا رہی تھی۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

’دولتِ اسلامیہ کا اثر روکنے کے لیے خیبر فور آپریشن شروع‘

پشاور میں ایف سی قافلے پر حملہ، آٹھ افراد زخمی

پشاور میں دھماکہ، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک

ایس پی کینٹ ملک عمران نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ فرنٹیئر کور کی ڈبل کیبن گاڑی ایف سی کیمپ حیات آباد سے قلعہ بالا حصار میں واقع ایف سی ہیڈ کوارٹر کی طرف جا رہی تھی کہ جہاز چوک میں ایک خودکش حملہ آور نے اسے نشانہ بنایا۔

ملک عمران کے مطابق حملہ آور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھا اور جونھی گاڑی چوک پر پہنچی تو اس نے اپنی موٹر سائیکل گاڑی سے ٹکرا دی جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا۔

پولیس افسر کے مطابق دھماکے میں میجر جمال شیران سمیت دو فوجی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

دھماکے میں ایف سی کی دو گاڑیاں بھی تباہ ہو ئی ہیں۔

دھماکے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو حیات میڈیکل کمپلیکس پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستانی فوج نے اتوار کو پشاور سے متصل قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے دشوار گزار علاقے راجگال میں ایک نیا فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اس علاقے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے اثرونفوذ کا خاتمہ کرنا ہے۔

خیال رہے کہ پشاور میں سکیورٹی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر ہے تاہم پاکستان میں ایک مرتبہ پھر سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

گذشتہ دس دن کے دوران یہ ملک میں سکیورٹی اہلکاروں پر ہونے والا تیسرا حملہ ہے۔

اس سے قبل بلوچستان میں پولیس کے دو اعلیٰ افسران کی گاڑیوں پر حملوں میں دو افسران سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں