پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کا خطرہ کس حد تک موجود ہے؟

پاکستانی فوج تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے وادی راجگال میں سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر رسوخ روکنے کے لیے 'خیبر فور' کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز کیا ہے۔

'خیبر فور'کے تحت ان کارروائیوں کا آغاز ایسے وقت کیا گیا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص فاٹا میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی تنظیم کی جانب سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو دن پہلے بریفنگ میں تصدیق کی تھی کہ رواں سال کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ہونے والے حملوں میں سرحد پار سے بعض تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

'سرحد پار سے دولتِ اسلامیہ کا اثر روکنے کے لیے راجگال میں خیبر فور آپریشن'

افغانستان اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے؟

'دولت اسلامیہ کی پاکستان میں کارروائیوں کی دھمکی'

پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ نہ صرف بڑھا ہے بلکہ ان کی جانب سے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کیا گیا ہے جس سے سرحد کے اس پار تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

بعض غیر ملکی اخبارات کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار کے پہاڑی علاقے تورہ بورہ پر قابض ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ماضی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے۔

شدت پسندی پر نظر رکھنے والے سینئیر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا اثر و رسوخ ضرور موجود ہے لیکن وہ اس حد تک نہیں کہ جس طرح دیگر کالعدم تنظیموں کا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ الحاق ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے ایک الگ گروپ کی صورت میں اس کا کوئی موجود نہیں ہے۔

عامر رانا کے مطابق 'پاکستان میں دولتِ اسلامیہ ایک مقامی گروپ کی شکل میں موجود ہے، اسے اس تنظیم کی شکل میں نہیں لیا جاتا جو شام اور عراق میں سرگرم ہے بلکہ یہاں کے بعض جنگجو کمانڈروں نے پاکستانی تنظیموں سے تعلق بنا لیا ہے اور وہ ان کے ساتھ مل کر حملے کر رہے ہیں۔'

ان کے بقول دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں دیگر تنظیموں سے شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بعض مسلکی شرائط رکھی ہیں جس سے اس تنظیم کی عددی اکثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ بڑھا ہے

ادھر وادی راجگال میں فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن 'خیبر فور' کا اعلان ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے کیا گیا ہے جس سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے اعلانات دہشت گردوں کے لیے سرحد پار فرار کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔

دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آپریشن کا اعلان تو ایک خانہ پوری ہوتی ہے اور اس کے لیے تمام تر منصوبہ بندی پہلے سے مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی بھی آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے اس کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں اور بعض اوقات تو کچھ غیر اعلانیہ کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں تاہم اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جاتا ہے۔

بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے گومگو کی صورت حال تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہیں جس سے اہم کمانڈروں کو علاقے سے فرار ہونے کا موقع ملا تھا۔

پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ مرکز نہیں ہے لیکن سرحد پار ان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں۔

اسی بارے میں