’اُن کی اپروچ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR Qureshi
Image caption عدالت میں حزبِ مخالف کی جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے۔

سپریم کورٹ کا کورٹ روم نمبر دو جہاں پر پاناما لیکس پر عملد درآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو رہی ہے، عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ایک بار مکمل طور پر بھر چکا تھا۔

منگل کو عدالتی کارروائی کو دیکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

’شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی‘

’مسٹر سپیکر نہیں مائی لارڈز کہیں‘

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کے دوران کافی جارحانہ موڈ میں تھا اور بینچ میں موجود جج صاحبان نے وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو 'ٹف ٹائم' دیا اور اُن سے ان کے موکل کے اثاثوں اور لندن فلیٹس کے بارے میں سوالات کیے جس پر وہ کافی دباؤ میں نظر آئے۔

سماعت کے دوران عدالت نے جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے ردعمل پر بھی آبرزویشن دیں کہ 'اُن کی اپروچ یہی تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا۔'

خواجہ حارث کی طرف سے جب یہ سوال اُٹھایا گیا کہ دستاویزی ثبوت صرف وہی تسلیم کیے جائیں گے جو ایک ملک کی حکومت دوسرے ملک کی حکومت کو بھیجتی ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'جے آئی ٹی نے برطانیہ کے متعلقہ اداروں کو ہی خط لکھا ہوگا۔ ملکہ کو تو چٹھی نہیں لکھی جا سکتی۔' اس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا۔

پارک لین کے فلیٹس کب خریدے گئے، کب بِکے

عدالت کی طرف سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم نمبر دس کو عام کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد وزیراعظم کے وکیل نے اس والیم کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا جبکہ ان کے موکل کی طرف سے جو اعتراضات اُٹھائے گئے تھے اس میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جے آئی ٹی کے والیم نمبر دس کی کاپی فراہم کی جائے۔

سماعت کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ساتھ لے کر چلتے ہوئے دکھائی دیے۔

Image caption منگل کو سماعت کے دوران وزیرِاعظم کے خاندان کی ملکیت پارک لین کے فلیٹس کا دوبارہ ذکر ہوا

صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے دوران ماضی قریب میں ناخوشگوار تعلقات کے بارے میں بات ہوئی تو شیخ رشید نے مداخلت کی اور کہا کہ 'اگر نیک کام یعنی نواز شریف کو ہٹانے کے لیے دونوں جماعتیں اکٹھی ہوگئی ہیں تو میڈیا سمیت اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما پہلی مرتبہ عدالتی سماعت ختم ہونے تک سپریم کورٹ میں رہے۔

شیخ رشید اور پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی نے الگ الگ میڈیا سے بات چیت کے دوران ایک دوسرے پر ذاتی حملے کیے لیکن جب عدالتی سماعت ختم ہونے کے بعد باہر نکلے تو دونوں ایک دوسرے سے کنّی کترا گئے۔

ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی درجہ حرارت کی تپش سپریم کورٹ کے باہر بھی محسوس کی گئی جب حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان تحریک انصاف کے کارکن ایک دوسرے کے سامنے آگئے اور اُنھوں نے ایک دوسرے کی قیادت کے خلاف شدید نعرے بازی کی تاہم وہاں پر موجود پولیس اہلکاروں نے بیچ بچاؤ کروایا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج دوسرے روز بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ اس سے پہلے عمران خان پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں موجود ہوتے تھے۔

اسی بارے میں