خالی پیٹ، تھیٹر کی پرورش

Image caption گوادر اور پسنی میں یہ تھیٹر زیادہ ہوتے ہیں

گوادر میں جب اس کا تھیٹر مکمل ہوا اور لوگ تالیاں بجا کر اسے داد دے رہے تھے تو اس کی ساری محنت اور لگن جیسے کامیاب ہوگئی تھی۔ اس داد کے حصول کے لیے ریہرسل میں مصروف اللہ بخش بلوچ نے تین روز تک کھانا نہیں کھایا تھا ۔انہوں نے خواجہ سرا کا کردار ادا کیا۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں گزشتہ ایک دھائی سے جاری شورش نے فنون لطیفہ کو بھی متاثر کیا ہے، لیکن حالات کی سنگینی اور مالی مسائل کے باوجود بلوچی سٹیج کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔

اللہ بخش بلوچ 1999 سے تھیٹر کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ شروع میں تو انہیں شوق تھا لیکن آگے چل کر انہوں نے اسے بطور پروفیشن لینے اور باضابطہ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔

’ہمارے یہاں کوئی سکول یا اکیڈمی نہیں ہے جو تربیت فراہم کرے، میں نے اپنے طور پر سیکھنے کی کوشش کی، اقبال موٹلانی کی تھیٹر اور ادا کاری کے حوالے سے کتابیں پڑھیں اس کے علاوہ جس کو یہاں تھیٹر کا تھوڑا بہت معلوم تھا ان سے معلومات حاصل کی۔‘

گوادر اور پسنی میں مختلف تھیٹر گروپس ہیں، جو عید یا سرکاری غیرسرکاری اداروں کی تقریبات میں تھیٹر پیش کرتے ہیں، جن کے موضوعات زیادہ تر سماجی مسائل ہوتے ہیں۔

اللہ بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ انہیں شوق ہے کہ وہ کراچی یا لاہور جائیں کسی ادارے میں اداکاری سیکھیں مگر وہ ٹھرے غریب۔ جیب ساتھ نہیں دیتی جبکہ سرکاری ادارے ، اور بڑے لوگ ہیں وہ سپورٹ نہیں کرتے۔

’میرے گھر والے مجھ سے بیزار ہیں، کہتے ہیں کہ کیا ملا ہے تمہیں اس ڈرامے کے پیچھے، لیکن جب میں لوگوں کو دیکھتا ہوں اور وہ واہ واہ کرتے ہیں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان کو میری ضرورت ہے میں ان تک پیغام پہنچا سکتا ہوں۔‘

Image caption اللہ بخش بلوچ 1999 سے تھیٹر کر رہے ہیں۔

گوادر اور پسنی میں یہ تھیٹر زیادہ ہوتے ہیں، جس میں آس پاس کے قصبوں اوڑماہ، جیونی، پشکان اور پسنی کے رہائشی شریک ہوتے ہیں، ان تھیٹر کے کبھی کبھار 20 سے 50 رپے کے ٹکٹ رکھ دیئے جاتے ہیں۔

پاکستان چین اقتصادی راہدری کے مرکز گوادر میں اس وقت فٹبال سٹڈیم کی سرکاری طور پر تعمیر اور سینما کو نجی طور پر مرمت کرکے آباد کیا گیا ہے، لیکن سٹیج و تھیٹر کی سرکاری سطح پر کوئی پذیرائی نظر نہیں آتی اور نہ ہی کسی منصوبے میں فنوں لطیفہ کا فروغ شامل ہے۔

تھیٹر کے لیے متعلقہ کردار کا گیٹ اپ کرنا بھی ان اداکاروں کے لیے مشکل مرحلہ ہے، اللہ بخش بلوچ نے بتایا گیٹ اپ کے لیے جو اشیا درکار ہوتی ہیں وہ پڑوسیوں، دوستوں اور رشتےداروں سے مانگتے ہیں کوئی دینے پر راضی ہوجاتا ہے اور کوئی انکار کردیتا ہے۔" ہم دو وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے گیٹ اپ کیسے خرید کرسکتے ہیں۔

بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران بیلٹ کے بارے میں یہ تصور عام ہے کہ یہاں سرداری نظام نہیں جبکہ شرح تعلیم بھی زیادہ ہے، مڈل کلاس سیاست اور ادب میں بھی یہاں کا کردار زیادہ ہے۔

کوئٹہ اور کراچی کے برعکس گوادر میں بلوچی تھیٹر کے اداکاروں اور تماشائیوں میں خواتین موجود نہیں ہوتی ہیں اس کو روایت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ تھیٹر میں کبھی کبھار خواتین کے بجائے خواجہ سرا کا کردار شامل کرلیا جاتا ہے، اللہ بخش بلوچ نے بھی گودار کتب میلے میں اپنے ڈرامے میں خواجہ سرا کا کردار ادا کیا تھا۔

اللہ بخش بلوچ کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تھیٹر میں خواتین آئیں کیونکہ خواتین کے بغیر انسان اور معاشرہ ادھورا ہے۔ ’جب ہم تھیٹر کرتے ہیں اس میں جو کہانی ہوتی ہے وہ معاشرے سے متعلق ہوتی ہے، اگر اس میں خواتین کا کردار نہیں ہوگا تو اس میں پھیکا پن آجائے گا۔ لیکن لوگ ہیں جو اس کو غلط سمجھتے ہیں۔ ہم چاہتے کہ ایسا کریں لیکن اس لیے نہیں کرسکتے کہ یوں نہ ہو کہ گھر میں سوئے ہوئے ہوں اور کوئی مارکر چلا جائے۔‘

اللہ بخش بلوچ نے اپنی واحد اولاد بیٹی کو تھیٹر کی کچھ تربیت دی لیکن بعد میں اپنا فیصلہ تبدل کرلیا، بقول ان کے میں نے سوچا کہ جس طرح میں دھکے کھا رہا ہوں، اس کا کیا ہوگا اس لیے کہا کہ تم پڑھائی میں دل لگاؤ۔