اسلامی عسکری اتحاد کے قواعد و ضوابط تاحال طے نہیں ہوئے: سرتاج عزیز

سرتاج عزیز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے بقول اکتالیس مسلم ممالک کے اس اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ لینے سے پہلےاس کے قواعد و ضوابط پاکستان کی پارلیمان کے سامنے پیش کئے جائیں گے

وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف کےمشیر برائے امورخارجہ سرتاج عزیز مشیر نے سابق آرمی چیف راحیل شریف کے ریاض عسکری اتحاد کے سربراہ کے طور پر تعیناتی پر سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا ہےکہ 'ابھی تک عسکری اتحاد کے قواعد و ضوابط طے نہیں ہوئے۔‘

نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق سینیٹ کے اراکین کو آگاہ کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے بتایا کہ 'ٹی او آرز کو حتمی شکل دینے کے لیے رکن ممالک اور وزیردفاع کے درمیان ملاقات ہونی تھی جو فی الحال نہیں ہوئی ہے۔‘

جس پر چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'اگر ٹی او ارز پاکستان کی مرضی کے مطابق نہ بنیں تو حکومت کیا کرے گی؟'

جواب میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ اکتالیس مسلم ممالک کے اس اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ لینے سے پہلےاس کے قواعد و ضوابط پاکستان کی پارلیمان کے سامنے پیش کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ 'سابق آرمی چیف اُسی پالیسی پر عمل درآمد کریں گے جو ملکی پارلیمان بنائے گی۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق ابھی تک عسکری اتحاد کی کوئی فوج ترتیب نہیں دی گئی جس کی سابق آرمی چیف سربراہی کر رہے ہوں۔ تاہم چیئرمین سینٹ کا کہنا تھا کہ 'جوہری طاقت کے حامل ملک کے سابق فوجی سربراہ کو آپ نے حساس جگہ پر بھیج دیا اور آپ کو ٹی او آرز کا پتہ بھی نہیں۔‘

چیئرمین سینٹ سمیت دیگر سینیٹرز نے بھی مشیر خارجہ کے بیان پرتحفظات کا اظہار کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والےسینیٹر فرحت اللہ بابر نےکہا کہ ریٹائرمنٹ سے 10 ماہ پہلے ہی جنرل راحیل شریف نے فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے زریعے مدِ ملازمت میں توسیع نہ لینےکا اعلان کردیا تھا۔ انھوں نےسوال کیاکہ راحیل شریف کا 10 ماہ پہلے ہی توسیع نہ لینے کے بیان کا مقصد کیاتھا؟ جبکہ کسی نے انھیں مدتِ ملازمت میں توسیع لینے کی پیش کش بھی نہیں کی تھی۔

فرحت اللہ بابر نے مزید کہا کہ کیا راحیل شریف سعودی عرب کو پیغام دینا چاہتے تھے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ دستیاب ہیں؟ انھوں نےاس معاملے کی تحقیقات کامطالبہ بھی کیا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ہمارے ریٹاریرڈ افسران کو استعمال کرتا رہا ہے۔ جس پر سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ماضی میں سعودی عرب میں جانے والے افسران میجر اور کرنل کی سطح کے تھے۔ یہاں تو اپ نے سابق آرمی چیف کوسعودی عرب بھیج دیا ہے۔ ابھی تو ان کی ریٹائرمنٹ کی سیاہی بھی نہیں سوکھی تھی۔ یہ تعیناتی کیسے ہماری خارجہ پالیسی متاثر نہیں کرے گی؟ اگر کل ٹی او ارز ہماری مرضی کے مطابق نہ ہوں تو کیا آپ انھیں واپس بلا لیں گے ؟

سرتاج عزیز نے کہا کہ اس اتحاد کے اندر کوئی فوجی دستے نہیں ہیں۔ یہ اتحاد، یمن جنگ والے اتحاد سے الگ ایک اتحاد ہے۔ سابق آرمی چیف کی وہاں موجودگی حالات میں توازن پیدا کرے گی۔

سینٹ میں سندھ میں گمشدہ افراد کے مسئلے سمیت پاڑہ چنار میں دہشت گردی، نیشنل ایکشن پلان پر غیر منصفانہ عمل درآمد احمد پور شرقیہ حادثے میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

اسی بارے میں