شہباز شریف کی نااہلی کےلیے عمران خان کی درخواست خارج

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف کے خلاف نااہلی کے لیے دائر ریفرنس ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دیا ہے۔

عمران خان کی طرف سے ان کے وکیل بابر اعوان نے سوموار کے روز شہباز شریف کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شہباز شریف وزیرِ اعلٰی کے منصب کے اہل نہیں رہے۔

درخواست میں شہباز شریف اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی پاکستان تحریکِ انصاف کے وکیل نے عدالت سے شہباز شریف کے خلاف حکمِ امتنای جاری کرنے کی درخواست دائر کرتے ہوئے یہ استدعا بھی کی تھی کہ شہباز شریف کو ریفرنس کا فیصلے آنے تک کسی بھی قسم کے مالی احکامات کے اجرا سے روکا دیا جائے۔

منگل کے روز ہائی کورٹ کے جج شاہد کریم نے ابتدائی سماعت کے بعد درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ تاہم بعد میں مختصر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے صوبہ پنجاب کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف میاں محمود الرشید کا کہنا تھا کہ عدالت کے طرف سے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وہ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے جس سلسلے میں پارٹی اراکین اور قانونی ماہرین کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

’ہم اس حوالے سے پارٹی سے مشاورت کر رہے ہیں اور ہائی کورٹ کی جانب سے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد یہ طے کیا جائے گا کہ ہمیں عدالت کے اس فیصلے کو چحلینج کرنا ہے یا ہمارا اگلا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد معلوم ہو پائے گا کہ ان کی درخواست کن وجوہات کی بنا پر خارج کی گئی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پاناما کیس کی تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کرائی گئ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریف خاندان کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔ جس کے بعد شہباز شریف عوامی عہدہ رکھنے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔

درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ شہباز شریف نے بطورِ وزیرِاعلٰی شریف خاندان کی شوگر ملز کی جگہ کی تبدیلی کے حوالے سے کیس کے دوران سرکاری اثر رسوخ استعمال کیا تھا جو کہ ان کے بطورِ وزیرِ اعلٰی لیئے گیئے حلف کی خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے مبینہ طور پر وزیرِ اعظم نواز شریف کو 6 ارب روپے کے تحائف دیئے جن کا ذکر کسی بھی منی ٹریل میں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں شہباز شریف عوامی عہدہ رکھنے کے ساتھ ذاتی کاروبار سے منسلک رہے۔

ان اعتراضات کو بنیاد بنا کر پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ شہباز شریف کو وزیرِ اعلٰی پنجاب کے عہدے کیلیئے نا اہل قرار دیا جائے۔