مستونگ میں ہزارہ برادری کے چار افراد کی ٹارگٹ کلنگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مستونگ میں ہزارہ برادری کے افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ہلاک شدگان کا تعلق ہزارہ برادری سے بتایا گیا ہے۔

مستونگ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے قافلے کے قریب دھماکے میں 25 افراد ہلاک

کوئٹہ میں فائرنگ، ہزارہ برادری کے پانچ افراد زخمی

بلوچستان: گاڑی پر فائرنگ، ہزارہ برادری کے چھ مزدور ہلاک

مستونگ پولیس کے مطابق یہ افراد کوئٹہ سے کراچی جا رہے تھے کہ مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں یہ چاروں ہلاک ہو گئے جبکہ گاڑی کا ڈرائیور زخمی ہوا جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے اس حملے کو ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ قرار دیا ہے۔

Image caption بلوچستان میں ہزارہ برادری کو درجنوں واقعات میں نشانہ بنایا گیا ہے

خیال رہے کہ بلوچستان میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی ہزارہ برادری کو ماضی میں بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اس برادری سے تعلق رکھنے والوں پر خصوصاً کوئٹہ، مستونگ اور مچھ کے علاقے میں حملے ہوئے ہیں۔

گذشتہ ماہ کوئٹہ میں اس طرح کے حملے میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سمیت دو افراد مارے گئے تھے۔

سنہ 2002 کے بعد سے اب تک ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ہلاک جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔

دس سال سے زائد عرصے میں ان حملوں میں ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی ہے تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں ان واقعات میں بہت کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں