جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں کیا ہے؟

مریم نواز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاناما لیکس سے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں شریف خاندان کے بارے میں بڑی سنگین دستاویز لف کی گئی ہیں جنھیں کسی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں ایسا کیا ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ یہ نظرانداز نہیں کی جاسکتی ہیں؟

’وکیل کب ہارتا ہے، ہارتا تو موکل ہے‘

’رپورٹ میں شامل دستاویزات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

’اُن کی اپروچ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا‘

جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر چار ایونفیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت سے متعلق ہے۔

اس جلد میں ایونفیلڈ اپارٹمنس سے متعلق بنیادی طور پر تین سوالات سامنے رکھے گئے تھے۔

سوال نمبر ایک: کیا حسن نواز اور حسین نواز 90 کی دہائی کے آغاز میں اس عمر کو پہنچ چکے تھے کہ وہ اپارٹمنٹس کی فروخت یا ملکیت حاصل کر سکتے تھے؟

سوال نمبر دو: بیئرر شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟

سوال نمبر تین: نیلسن اینٹرپرائز لمیٹڈ اور نیسکول اینٹرپرائز لمیٹڈ کے اصل مالکان کون ہیں؟

رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور کیپٹن صفدر سے ایونفیلڈ اپارٹمنٹس کی تفصیلات پوچھیں کی گئیں۔

جے آئی ٹی کی تحقیقات کے مطابق مریم نواز نیلسن اور نیسکول کمپنی کی اصل اور حقیقی مالکہ ہیں اور ایونفیلڈ اپارٹمینٹس 2012 اور اس سے پہلے ان کی ملکیت رہے ہیں۔

مریم نواز کی جانب سے جے آئی ٹی کے سامنے جو 'ٹرسٹ ڈیڈ' اور سپریم کورٹ کو اس کی جو نقول پیش کی گئیں وہ جعلی تھی اور اس کا مقصد سپریم کورٹ کو گمراہ کرنا تھا۔

قطری خط کے ساتھ جو دوستاویزات لف کی گئی ہیں وہ شریف خاندان کی جانب سے فراہم کردہ منی ٹریل میں موجود خلا کو پر کرنے کے لیے بعد میں 'تیار کی گئی تھیں۔' چنانچہ حمد بن جاسم الثانی کے دونوں خطوط 'جھوٹ' ہیں اور حقیقت پر مبنی نہیں۔

حسین نواز کی جانب سے جے آئی ٹی کے سامنے بیان تبدیل کرنے اور سپریم کورٹ میں دائر کیے گئے جواب سے حقیقت کو چھپانے کی کوشش کا اشارہ ملتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

حسین نواز اور حسن نواز کی عمر سے متعلق سوال پر جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ سنہ 2000 حسن نواز اور حسین نواز کا کوئی آزاد ذریعۂ آمدن نہیں تھا اور وہ مالی طور پر اپنے خاندان پر انحصار کرتے تھے۔

یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حسین نواز یا حسن نواز انفرادی یا اجتماعی طور کسی بھی طرح ایونفیلڈ کی جائیداد کی خریداری اور دیکھ بھال میں شریک نہیں تھے۔

بیئرر شیئرز فلیٹس میں کیسے تبدیل ہوئے؟ اس بارے میں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ فلیٹس قطرے شہزادے کی ملکیت نہیں تھے اور قطری سرمایہ کاری کے بدلے میں بیئرر شیئرز کی فراہمی بالکل جھوٹ ہے۔

نیلسن اینٹرپرائز لمیٹڈ اور نیسکول اینٹرپرائز لمیٹڈ کے اصل مالکان کون ہیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق حسین نواز نے نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا لیکن جے آئی ٹی کے طلب کیے جانے کے باوجود وہ ان کی ملکیت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایونفیلڈ جائیداد کی اصل اور حقیقی مالکہ نیلسن اور نیسکول کمپنیوں کے ذریعے مریم نواز تھیں (اور شاید اب بھی ہیں، اور مریم نواز کا 'ٹرسٹی' ہونے کا دعویٰ جعلی ثبوت پیش کر کے سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں