’وکیل کب ہارتا ہے، ہارتا تو موکل ہے‘

Image caption پانی وبجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی جب اپنے چند کارکنوں کے ہمراہ عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں موجود تھے۔

وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی بیرون ملک دولت کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت سے پہلے سپریم کورٹ کے باہر کے مناظر انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں۔

الیکٹرانک میڈیا نے ملک میں جتنی ترقی کی ہے اس کی اہمیت کو سیاست دان اب پہلے سے زیادہ بھانپ گئے ہیں اور اُن کی نظر میں اپنے حلقے کے لوگوں کو یہ بھی باور کروانا ہوتا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بھی ہو رہا لیکن اس کے باوجود وہ انتہائی اہم کام کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں۔

عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی دوسرے یا تیسرے درجے کی لیڈر شپ ایک ساتھ سپریم کورٹ میں نہیں پہنچتے بلکہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کمرہ عدالت میں جاتے ہیں کیونکہ جب یہ افراد سپریم کورٹ کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھتے ہیں تو وہاں پر موجود مختلف ٹی وی چینلز کے درجنوں کمیرہ مینوں کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی ہیں کہ پیچھے ہٹ جاو فوٹیج لینی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں بھی حکمت عملی تبدیل کی ہے جس کے مطابق ہرسماعت کے دوران ہر آدھے گھنٹے کے بعد حزب اقتدار اور حزب مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے رہنما کمیروں کے سامنے آکر عدالتی کارروائی کے بارے میں صرف وہ بات کرتے ہیں جو ان کے حق میں جاتی ہو۔ اتنے اہم مقدمے میں اور اسی صورت حال میں میڈیا چینلز کے پاس ان کی گفتگو براہراست دکھانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی جب اپنے چند کارکنوں کے ہمراہ عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں آرہے تھے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن بھی وہاں پر آگئے تو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے حریف مانے جانے والے دونوں رہنما ایک دوسرے کے گلے ملے۔

اس دوران دونوں کے درمیان دلچسپ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ عابد شیر علی نے ندیم افضل چن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آجکل اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت میں بات کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگ جھوٹ زیادہ بولتے ہیں اس لیے ’اُنھیں انڈے نہ پر پڑیں اس لیے اُنھیں ساتھ لے جاتا ہوں‘ جس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی حفاظت کے لیے آئے ہیں کیونکہ مسلم لیگ نون پر سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جے آئی ٹی کی جانب سے اپنی رپورٹ جمع کروانے کے بعد سپریم کورٹ میں فریقین کے وکیل اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج بھی مقدمے کی سماعت سننے عدالت میں نہیں آئے۔۔ عمران خان وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے خاندان پر پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد چلنے والے اس مقدمے میں درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ایک موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران ان کے موکل کے ساتھ جو تعصبانہ سلوک رکھا گیا اس سے میں ( طارق حسن) پرشان ہوں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نعیم بخاری پہلے ہی کہہ چکے ہیں وکیل نہیں اس کا موکل ہارتا ہے۔ اس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا۔

جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کروانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کی عمارت کے نہ صرف باہر بلکہ کمرہ عدالت کے باہر بھی درجنوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا بلکہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت کا رہنما کمرہ عدالت سے نکل کر باہر جاتا تو کم از کم سات پولیس اہلکار اُن کے ساتھ ہوتے اور وائرلیس کے ذریعے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں کو آگاہ کرتے جس کے بعد مرکزی دروازے پر سیکیورٹی بڑھا دی جاتی تھی۔

عمران خان کے وکیل نعیم بخاری جب گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھے تو میڈیا کے نمائندوں نے اُنھیں گھیر لیا اور ان سے پوچھا کہ ’لوگ اب آپ کو سٹپنی وکیل کہہ کہ پکارتے ہیں جس پر انھوں نے کہا کہ دوسروں کا تو پتہ نہیں لیکن موٹو گینگ ضرور ایسا کرتا ہوں گا۔‘

اسی بارے میں