’کورٹ رپورٹنگ کے پیچھے پوری سائنس ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاناما کیس کی کوریج اور میڈیا کی مشکلات

آج کل پاکستانی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر نیوز چینلز پر سپریم کورٹ میں چلنے والا پاناما لیکس کا مقدمہ چھایا ہوا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر کی جانے و الی سماعت ابھی شروع ہی ہوتی ہے کہ پہلے ٹکرز (سکرین کے نچلے حصے میں چلنے والی خبریں) چلنے شروع ہوتے ہیں اور اُس کے بعد رپورٹرز سے بذریعہ فون تازہ ترین معلومات اور بعد میں اُس دن کی عدالتی کارروائی پر تفصیلی رپورٹیں اور تبصرے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں۔

بظاہر آسان دِکھنے اور روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی ذرائع ابلاغ کی اِس کوریج کے بارے میں اکثر ناظرین یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ 'ڈرامہ' پھر شروع ہو گیا۔

کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ کمرہ عدالت میں گھنٹوں جاری رہنے والی سماعت کن مراحل سے گزر کر اخبارات یا ٹیلی وژن کی زینت بنتی ہے اور پاناما جیسے حساس مقدمے کی رپورٹنگ کس قدر مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے؟ یہ تو وہی جانتے ہیں جو اس مشق کا حصہ ہیں یعنی رپورٹر اور کیمرہ مین۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے صحافی مطیع اللہ جان نجی ٹی وی چینل وقت نیوز سے وابستہ ہیں اور گذشتہ 20 سال سے سپریم کورٹ کے مقدمات کی رپورٹنگ کر تے رہے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ’یہ بڑی نازک اور حساس رپورٹنگ ہوتی ہے، جو رپورٹر پڑھا لکھا ہو، قانونی زبان اور انگریزی پر عبور حاصل ہو وہی آسانی سے یہ کام کر سکتا ہے ورنہ بڑے بڑے لطیفے ہو جاتے ہیں، ترجمے غلط ہو جاتے ہیں اور سپریم کورٹ اُس کا نوٹس بھی لے لیتی ہے۔‘

پاناما کیس کے وکلا

جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں کیا ہے؟

’وکیل کب ہارتا ہے، ہارتا تو موکل ہے‘

بظاہر آسان دکھنے والی عدالتی خبروں کی کوریج خاص کر پاناما کے مقدمے کی کوریج میں ایسا لگتا ہے کہ ایک صحافی کیمرے کے سامنے آیا اور اُس نے کمرہ عدالت کی گفتگو بیان کردی کہ جج نے کیا کہا، وکیل نے کیا کہا اور فیصلہ کیا آیا لیکن دراصل یہ کام اُتنا ہی مشکل ہے۔

مطیع اللہ جان نے بتایا اِس مشکل مقدمے کے لیے صحافی حضرات کو غیر معمولی اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔

چہرے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے اُنھوں بتایا کہ ’اِس کے پیچھے پوری سائنس ہے، یہ ایک رپورٹر کے بس کی بات نہیں، ایک بندہ کمرہ عدالت میں کارروائی سنتا رہتا ہے اور اُس کو لکھتا رہتا ہے، کچھ دیر بعد صفحہ پھاڑ کر ساتھی کو دیتا ہے جو بھاگ کر باہر آتا ہے اور اپنے دفتر فون کر کے ٹکرز اور تفصیل لکھواتا ہے، اِس کے علاوہ (بیپر) فون پر تفصیل بتانا ہوتی ہے۔ '

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پاناما کیس کوریج، ایک کیمرہ مین کی مشکلات

اُن کے مطابق اِس سارے کام کے دوران ماہر اور تجربہ کار رپورٹر کمرہ عدالت میں موجود رہتے ہیں اور اُن کے کام (نوٹس) کی بنیاد پر باہر اُن سے قدرے کم تجربہ کار ساتھی اُن کے کام کو ادارے تک پہنچاتے ہیں۔ بعض اوقات ایک رپورٹر کے لکھے ہوئے پرچوں (نوٹس) سے کئی رپورٹرز استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ کورٹ رپورٹرز اور کیمرہ مینوں کے وٹس ایپ گروپ بھی عدالتی کارروائی کے نوٹس آپس میں تیزی سے بانٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کمرہ عدالت میں سیل فون لے جانا منع ہوتا ہے لیکن اُس کے باہر اِس کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور اُس کا بھر پور فائدہ وہ رپورٹرز اٹھاتے ہیں جو تیزی سے واٹس ایپ پر اردو ٹائپنگ کر سکتے ہیں۔ عدالتی کارروائی واٹس ایپ کے ذریعے چینل تک پہنچتی ہے جہاں اُسے فوراً ٹکرز کی صورت میں چلا دیا جاتا ہے۔

سپریم کورٹ کے احاطے میں تو کیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں لہذا کیمرہ مین احاطے کے باہر سے اندر جانے اور آنے والوں کے مناظر عکس بند کرتے ہیں اور سماعت کے بعد اُن کے بیانات۔ لیکن یہاں بھی معاملہ اتنا آسان نہیں۔ یہ کام بھی ایک کیمرہ مین کے بس کا نہیں۔ یہاں بھی تین مخلتف مقامات پر کام ہوتا ہے یعنی سپریم کورٹ کے داخلی راستے، مرکزی عمارت میں داخلے کا مقام اور وہ مقام جہاں عموماً سیاست دان اور وکیل سماعت ختم ہونے کے بعد اُس کی اپنی سمجھ کے مطابق 'تشریح' کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

موسم کی شدت کا سامنا، بھوک اور بھاگ دوڑ کیمرہ مین کے حصے میں آتی ہے۔

مرزا رضوان بیگ اب تک نیوز چینل کے کیمرہ مین ہیں اور اپنی 15 سال کی پیشہ وارانہ زندگی میں گذشتہ چار سال سے سپریم کورٹ کی کوریج میں حصہ لے رہے ہیں۔

اُنھوں نے بتایا ' ہم نے نظام ایسا بنایا ہے کہ ہم پانچ کیمرہ مین ہیں مختلف مقامات پر تعینات ہوتے ہیں جیسے کہ آنے کے مقام یا ڈائس وغیرہ اور ہم آپس میں معلومات کا تبادلہ کرتے رہتے ہیں اور کوئی اہم موقع ضائع نہیں ہونے دیتے لیکن پھر بھی اگر ہم سے کچھ نکل جاتا ہے تو آپس میں ویڈیو بانٹ لیتے ہیں جس کا علم ہمارے ادارے کو ہوتا ہے کیونکہ یہ ایک آدمی کا کام نہیں ہے'۔

رپورٹرز اور کیمرہ مین کی آپس میں معلومات بانٹنے کی عادت یا مجبوری کی وجہ سے ہی شاید دیکھنے والوں کو ہر ٹی وی چینل کی نشریات میں یکسانیت نظر آتی ہے۔ لیکن اِس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی سے کوئی چیز بھی رہ جائے تو ادارے کے کرتا دھرتا اُس کی پورے دن کی محنت کو ایک طرف رکھ کر چھوٹ جانے والی چیز کو ہی ہدف بناتے ہیں۔

کورٹ رپورٹنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے اہم اور حساس کام ہوتا ہے کسی بھی صحافی کےلیے کیوں کہ یہاں پر زیر سماعت مقدمات قومی بلکہ بعض اوقات بین الاقوامی نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں ذرا سی لاپرواہی ادارے اور خود صحافی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہے۔

اسی بارے میں