الیکٹرانک کرائم کے قانون: فرقہ واریت پھیلانے والی 64 میں سے 41 ویب سائٹس اب بھی فعال

پاکستان پالیمینٹ، سینیٹ

پاکستان کے ایوانِ بالا میں اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے الیکٹرانک کرائم کے قانون کہ قومی سلامتی کے لیے استعمال کرنے کےبجائے اسے سیاسی آلہ بنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق پیپلز پارٹی سے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ 'اس بل کی منظوری کے وقت بھی خدشہ تھاکہ اس کا غلط استعمال کیاجاسکتا ہے تاہم اُس وقت یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ہرچھ ماہ بعد اپنی رپورٹ پارلیمان کے سامنے پیش کرےگا لیکن چھ ماہ سے زیادہ ہوگئے اور کوئی رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔'

سینیٹر سحر کامران کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں اور فرقہ وارانہ پروپیگنڈا پھیلانے والی ویب سائٹس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ 64 میں سے 41 ایسی ویب سائٹس اب بھی فعال ہیں۔'

پاکستان میں لاپتہ بلاگرز کی رہائی کے لیے مظاہرے

ہدایت نامہ برائے مِسنگ پرسن

نامہ نگار کے مطابق سینٹ میں قائدحزب اختلاف سینیٹراعتزاز احسن نے کہا کہ'قومی سلامتی کی ڈھال لے کر اس قانون کا آزادی اظہارِ رائے کے خلاف استعمال شروع ہوا۔

انھوں نےکہا کہ 'سائبرکرائم ایکٹ کا مقصد شہریوں کو بلیک میل ہونے سے بچانا ہے۔‘

اعتزاز احسن نے سوویت یونین، مغربی جرمنی اور فارس کی مثالیں دیتے ہوئِے کہا کہ 'جن ریاستوں کی پہلی ترجیح، شہری کی ترقی و فلاح کے بجائے قومی سلامتی ہو، وہ قائم نہیں رہتیں۔'

انھوں نے تجویز دی کہ پارلیمان کی سطح پہ اس قانون پر ہر چھ ماہ میں نظرِ ثانی ہونی چاہئیے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کی منظوری کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سےجاری ہوئے حکم نامے یا 'بلینکٹ آرڈر' پرتشویش کا اظہار کیا جس میں کہاگیا تھا کہ جو لوگ قومی سلامتی کے خلاف اور فوج کوبدنام کرتے ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی جائے گی۔

سینیٹرفرحت اللہ بابر نے اس ضمن میں سابق آرمی چیف راحیل شریف کو 90 ایکٹر زمین الاٹ کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پربحث کومختلف حلقوں کی جانب سے فوج کو بدنام کرنے کی سازش قرار دینے اور حال ہی میں کوئٹہ سےگرفتار نوجوان صحافی ظفر اللہ اچکزئی کا حوالہ دیاجنھیں سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر قابل اعتراض مواد شائع کرنے کے الزام میں ایف آئی اے کےحوالے کیاگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے کہا کہ 'اگر بات ہوتی ہے کہ آپ 90 ایکٹر زمین دے رہے ہو، کس قاعدے قوانین کے تحت، تو یہ کہاں سے بدنامی کی بات ہوگئی؟ اسے قومی سلامتی کے لیے خطرے اور فوج کی بدنامی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

وزیرمملکت برائے امورِ داخلہ بلیغ الرحمان نےایوان کو بتایا کہ الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت 2017 میں 4003 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 559 کی تفتیش کی گئی جبکہ 102 ایف آئی آر درج کرائی گئیں اور 83 افراد کو گرفتار کیاگیا۔

سینٹر اعتزاز احسن نے لاپتہ بلاگرز سے متعلق وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ 16 اپریل کو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ چند روز میں حقائق سامنے آجائیں گے۔ باقی بلاگرز تو واپس آگئے لیکن اسلام آباد سےرضا لغاری اب بھی لاپتہ ہیں۔ جس پر وزیرِ مملک برائے امورِ داخلہ بلیغ الرحمان نے جواب دیا کہ اب بھی صورتحال یہی ہے۔

الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے غلط استعمال کے ذریعے اظہار رائے کی آزادی کو لاحق خطرے سے متعلق تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیرمملکت انوشہ رحمن نے کہا کہ یہ بل پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی اجتماعی رضامندی کے ذریعے منظورکیاگیا۔انھوں نے کہاکہ اگرضروری ہوا تو ایکٹ میں ترمیم بھی کی جاسکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں