اورنج لائن میٹرو: گاڑی پٹڑی پر چڑھ پائے گی؟

اورنج لائن منصوبہ
Image caption یونیسکو نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک یہ دورہ نہیں ہوتا تب تک شالیمار باغ کے قریب اورنج لائن ٹرین پر مزید کوئی کام نہیں ہونا چاہیے

لاہور میں رہنے والا ہر شخص اس سوال کا جواب جاننا چاہتا ہے کہ کیا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ کبھی مکمل ہو گا یا نہیں؟ شالیمار باغ کے پاس اس کے ادھورے پِلر مکمل ہو پائیں گے؟ کیا یونیسکو سے اورنج ٹرین بنانے کی اجازت مل جائے گی؟

یونیسکو نے آٹھ جولائی کو پولینڈ میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان کو ایک سال کا وقت دیا ہے جس دوران ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کو پاکستان کا دورہ کر کے اس بات کی یقین دہانی کرنی ہے کہ اورنج لائن ٹرین یا کسی اور حکومتی منصوبے کے باعث لاہور کا شاہی قلعہ اور شالیمار باغ متاثر تو نہیں ہو رہے۔

یونیسکو نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک یہ دورہ نہیں ہوتا تب تک شالیمار باغ کے قریب اورنج لائن ٹرین پر مزید کوئی کام نہیں ہونا چاہیے۔

اس بات کی تصدیق بی بی سی کی ٹیم نے ای میل کے ذریعے یونیسکو سے کی ہے۔

اسرار سعید نے پولینڈ میں ہونے والے اس اجلاس میں پنجاب حکومت کے وفد کے ساتھ شرکت کی اور اس حوالے سے یونیسکو کے عہدیداران کے سامنے اپنا موقف بیان کیا۔

'اورنج لائن اگر تحفہ ہے تو عذاب کیسا ہوگا؟'

اورنج لائن منصوبہ اور تاریخی عمارتوں کا مرثیہ

ان کے مطابق 'یونیسکو کا مینڈیٹ پڑھیں تو ان سے اورنج ٹرین منصوبے کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو شالیمار باغ کے حوالے سے فکر مند ہیں کہ وہ ورلڈ ہیریٹیج لسٹ پر ہے۔ ہم نے پولینڈ جا کر یونیسکو کو تسلی دی کہ ہم یہ ذمہ داری پوری کریں گے۔ ہم نے ان کو بتایا کہ اس حوالے سے پاکستان کی سپریم کورٹ میں کیس چل رہا ہے، فیصلہ آتے ہی ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کو بھی پاکستان بلائیں گے لیکن اس وقت کیس کو کسی طور پر متاثر نہیں کرنا چاہیے، میرٹ پر فیصلہ ہونے دیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کو بلا کر نہ صرف سب کچھ دکھائیں گے بلکہ ٹرین پر بٹھا کر سفر بھی کروائیں گے۔'

Image caption اورنج لائن میٹرو ٹرین کے 11 مقامات پر سِول سوسائٹی کے سٹے آرڈر کے باعث کام رکا ہوا ہے

ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن ایک خود مختار ادارہ ہے جو پاکستان کا دورہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ یونیسکو کو جمع کروائے گا جس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا شاہی قلعے اور شالیمار باغ کو ورلڈ ہیریٹیج کی اس فہرست میں شامل کیا جائے جنہیں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

سول سوسائٹی کے ممبران اور لاہور بچاؤ تحریک کی بانی عمرانہ ٹوانا نے ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کے پاکستان نہ آنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

پولینڈ میں ہونے والے یونیسکو کے ورلڈ ہیریٹیج سیشن میں عمرانہ ٹوانا بھی موجود تھیں۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کے وفد نے اورنج لائن منصوبے کے حوالے سے غلط حقائق پیش کیے اور پاکستان واپس آ کر یہ تاثر دیا ہے کہ یونیسکو نے انھیں اورنج لائن ٹرین بنانے کی اجازت دے دی ہے۔

Image caption لاہور بچاؤ تحریک کی بانی عمرانہ ٹوانا کے مطابق پنجاب حکومت کے وفد نے اورنج لائن منصوبے کے حوالے سے غلط حقائق پیش کیے

عمرانہ ٹوانا کے مطابق 'پنجاب حکومت نے یونیسکو کو بتایا ہے کہ چونکہ یہ معاملہ پاکستان کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور ابھی تک عدالت کا فیصلہ نہیں آیا اس لیے وہ ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن کو پاکستان نہیں بلا سکتے۔ یہ قطعی اور واضح طور پر غلط بیانی ہے۔ عدالت نے یہ کہا تھا کہ اگر ری ایکٹیو مانیٹرنگ مشن پاکستان آ جائے تو عدالت کو معاملے کے ٹیکنیکل پہلو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔ پنجاب حکومت کے وفد نے پاکستان واپس آکر کہا ہے کہ انھیں اورنج ٹرین منصوبے کی اجازت مل گئی ہے، پنجاب حکومت کو قطعی طور پر اس کی اجازت نہیں ملی ہے۔'

چیف انجینئر اسرار سعید کے مطابق عمرانہ ٹوانا نے یونیسکو کے سامنے اپنے تمام تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن ان کے اعتراضات نہیں مانے گئے۔

'ان لوگوں نے یونیسکو سے کہا کہ اورنج لائن میٹرو منصوبے سے بڑا نقصان ہو رہا ہے اس لیے شالیمار باغ کو ’ڈینجر لسٹ‘ میں ڈال دیا جائے۔ ورلڈ ہیریٹیج کمیٹی نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔ لاہور بچاؤ تحریک نے پھر مطالبہ کیا کہ اورنج لائن ٹرین پر کام فوراً بند کر دیا جائے تاکہ ناقابل تبدیل نقصان نہ ہو جائے، یونیسکو نے اس بات کو بھی نہیں قبول کیا۔‘

موجودہ صورت حال یہ ہے کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کے 11 مقامات پر سِول سوسائٹی کے سٹے آرڈر کے باعث کام رکا ہوا ہے جن میں شالیمار باغ کا علاقہ بھی شامل ہے۔ رکے ہوئے کام کے باعث پورے لاہور کی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اب تمام نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، جہاں اس کیس پر فیصلہ محفوظ ہے۔

لاہور بچاؤ تحریک کے ممبران کا کہنا ہے کہ وہ اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کے خلاف نہیں لیکن اس کا روٹ لاہور کے ثقافتی ورثے کو متاثر کر رہا ہے، جو نہ انھیں قبول ہے اور نہ یونیسکو کو۔

دوسری جانب پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اورنج لائن میٹرو ٹرین پر کام کر رہی ہے اور ان کی کوشش ہے کہ اس سال کے آخر تک تعمیر کا کام مکمل ہو جائے بشرطیکہ سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے حق میں فیصلہ آئے۔

متعلقہ عنوانات