لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت نہ ہوئے تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا: سپریم کورٹ

شریف تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کے بچے لندن فلیٹس خریدنے کے ذرائع ثابت کردیں تو بچے اور باقی سب بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا اثر عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی ہوگا۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کے دوران کہا کہ آج بھی عدالت اپنے بنیادی سوال پر ہے کہ ان فلیٹوں کی خریداری کے لیے پیسہ کہاں سے آیا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کی جلد نمبر چار میں کیا ہے؟

’کورٹ رپورٹنگ کے پیچھے پوری سائنس ہے‘

’شریف خاندان کو فلیٹس کی ملکیت ثابت کرنی ہو گی‘

بی بی سی اردو کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق وزیر اعظم کے بچوں جن میں مریم نواز، حسین نواز اور حسن نواز شامل ہیں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکلین نے ایسا کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ اُن کے موکل حسین نواز نے یہ فلیٹس 2006 میں خریدے تھے۔ اس پر بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے بچوں پر الزام ہے کہ جب لندن میں یہ فلیٹس خریدے گئے تو اس وقت اُن کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزار کہہ رہے ہیں کہ وزیر اعظم سے پوچھا جائے کہ پیسہ کہاں سے آیا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے وزیر اعظم نواز شریف کا نام لیے بغیر کہا کہ 'لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم پر الزام کیا ہے'۔ اُنھوں نے کہا کہ ہر کوئی اپنے مطلب کی بات نکالتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی تحقیقات غیر جانبداری سے نہیں کیں اور اس میں تعصب کا عنصر پایا جاتا ہے لہٰذا اس معاملے کی مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وہ یہ معاملہ ٹرائل کورٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں جس پر وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل نے کہا کہ اُن کا کہنے کا مقصد جامع تحقیقات ہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کے بچوں کی طرف سے جو ٹرسٹ ڈیڈ پیش کی گئی اس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق جو کیلبری فونٹ استعمال ہوا وہ جعلی ہے اور قانون کے مطابق کاغذات میں ردوبدل کی سزا سات سال قید ہے۔

عدالت نے سلمان اکرم راجہ سے استفسار کیا کہ قطری شہزادے کو جو اُن کا سٹار گواہ تھا، جے آئی ٹی کے سامنے پیش کیوں نہیں کیا گیا جس پر سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ حمد بن جاسم نے جے آئی ٹی کے ارکان کو قطر آنے کی دعوت دی تھی۔ اُنھوں نے کہا کہ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا انٹرویو کرنے کی بجائے خود ہی نتیجہ اخذ کرلیا۔

بینچ میں موجود جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قطری شہزادے کو پیش کرنا شریف فیملی کی ذمہ داری تھی۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بعض غیر ملکیوں کو پاکستان کا ویزہ حاصل کرنے میں استثنیٰ ہے اور وہ صرف تلور کے شکار کے لیے پاکستان آجاتے ہیں لیکن جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوتے۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اور اُن کے بچوں نے کوئی 'رانگ ڈوئنگ' نہیں کی جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 'رائٹ ڈوئنگ' کے ثبوت تو فراہم نہیں کیے گئے۔

عدالت کے پوچھنے پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وزیر اعظم دبئی میں قائم ایف زیڈ ای کمپنی کے چیئرمین تھے لیکن اُنھوں نے کوئی تنخواہ وصول نہیں کی۔ اس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر تنخواہ نہیں بھی لی تو پھر بھی اُنھیں اثاثوں میں تو ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے۔

عدالت نے سلمان اکرم راجہ کو جمعے تک اپنے دلائل ختم کرنے کا کہا ہے۔

اسی بارے میں