'ایسے سمجھ لیں کہ جیسے چترالی چار ماہ تک پاکستانی نہیں ہوا کرتے تھے‘

Image caption لواری ٹنل کے افتتاح پر جمع معزمین

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے باشندوں کےلیے 'لائف لائن' کی حیثیت رکھنے والی ملک کی سب سے بڑی سرنگ لواری ٹنل کا باقاعدہ افتتاح کردیا گیا ہے۔

تاہم ٹنل کا 15 فیصد کام بدستور باقی ہے اور توقع ہے کہ باقی کام اس سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے جمعرات کو دیر بالا اور چترال کے درمیان واقع تقریباً ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل لواری ٹنل کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ان کے لیے یقینی طور پر آج خوشی کا دن ہے کیونکہ کئی سالوں سے التوا کا شکار چترال کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سرنگ کے کھل جانے سے نہ صرف چترال کے عوام کا ملک کے دوسرے شہروں سے سارا سال رابط برقرار رہے گا بلکہ اس سے ترقی کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔

چترال: لواری ٹنل کے قریب برفانی تودہ گرنے سے چھ ہلاک

'لواری ٹنل جون 2017 تک مکمل ہو جائے گی'

لواری ٹنل: چترالیوں کے لیے ایک سہانا خواب

نامکمل لواری سرنگ سے ہزاروں کی زندگی متاثر

نینشل ہائی وے اتھارٹی کے حکام کے مطابق ابتدائی طورپر ٹنل روزانہ کی بنیاد پر چھ گھنٹوں کے لیے عام ٹریفک کےلیے کھولی جائے گی جبکہ باقی ماندہ وقت میں سرنگ کے اندر جاری کام مکمل کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ سرنگ میں بجلی کا کام آخری مراحل میں ہے جسے مکمل کرنے میں مزید کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

تقریباً 26 ارب روپے کی خطیر لاگت سے تیار ہونے والی اس سرنگ کے منصوبے کی ابتدائی منطوری 70 کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں دی گئی تھی۔ تاہم اس پر باقاعدہ کھدائی کا کام سنہ 2006 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا۔

پیپلزپارٹی کے سابق دور میں اس منصوبے پر فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کام دوبارہ روک دیا گیا تھا۔

Image caption لواری ٹنل کا باقاعدہ افتتاح ہوگیا ہے

چترال کے مقامی صحافی گل حماد فاروقی کا کہنا ہے کہ چترال میں آج ہر طرف جشن کا سماں ہے اور لوگ سرنگ کھولے جانے پر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سردیوں میں لواری ٹاپ پر شدید برف باری کے باعث چار ماہ تک چترال کے لوگ ملک کے دیگر شہروں سے کٹ کر رہ جاتے تھے جس سے انھیں کئی قسم کے مسائل سے دوچار ہونا پڑتا تھا۔

'ایسے سمجھ لیں کہ جیسے چترالی چار ماہ تک پاکستانی نہیں ہوا کرتے تھے کیونکہ ان کا پاکستان کے کسی بھی شہر سے کوئی زمینی رابط نہیں ہوا کرتا تھا اور نہ کوئی ان کو پوچھنے والا تھا۔'

چترال سے کئی کلو میٹر دور لواری ٹنل میں ایک ہی وقت میں دو گاڑیاں باآسانی گزر سکتی ہیں۔ اس بڑے ٹنل کے ساتھ ایک چھوٹی ٹنل بھی بنائی گئی ہے۔

چترال کی طرف واقع یہ ٹنل تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر ہے جو مرکزی ٹنل سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹنل کے کھل جانے سے اب چار گھنٹے کا سفر 15 منٹ میں بغیر کسی خطرے کے طے کیا جا سکے گا۔

سرنگ کے اندر سے گاڑیوں کا دھواں نکالنے کےلیے تاحال کوئی انتظام موجود نہیں جس سے زہریلی گیسوں کے اخراج کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا تاہم این ایچ اے حکام کے مطابق زیریلی گیسوں کے اخراج سے بچنے کےلیے سرنگ کے اندر بڑے ایگزاسٹ مشینیں نصب کرنے کا کام تیز کردیا گیا ہے جسے جلد ہی مکمل کر لیا جائے گا۔

چترال کے ایک باشندے تیمور شاہ نے کہا کہ لواری ٹنل کا کھل جانا یہاں کے عوام کا ترقی کی جانب پہلا قدم ہے اور اب یہاں حقیقی تبدیلی آئےگی۔

انھوں نے کہا کہ لوگ حکمرانوں سے بڑے مایوس ہوگئے تھے کیونکہ کئی دہائیوں سے ان کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا نہیں کیا جا رہا تھا اور جس کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ لواری ٹنل کی تعمیر سے پہلے چترال سے ملک کے دیگر شہروں کی طرف جانے والی تمام گاڑیاں لواری ٹاپ سے گزر کر جاتی تھیں جو سطح سمندر سے تقریباً 10 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

یہاں اکثر اوقات حادثات پیش آتے رہے ہیں جس میں کئی افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

لواری ٹاپ موسم سرما میں شدید برف باری کے باعث چار ماہ تک بند رہتی ہے اور اس دوران یہاں سے پیدل جانا بھی محال ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں