’وزیراعظم کے استعفیٰ دینے سے جمہوریت کو خطرہ نہیں ہوگا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں بھی پاناما کیس پر سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی جانے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے سینیٹرز نے ایک بار پھر وزیرِاعظم نواز شریف سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

جمعرات کو سینیٹ میں سینیٹر تاج حیدر نے پاناما کیس پر بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ اور قومی اداروں بشمول سپریم کورٹ آف پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور بد نیتی پر مبنی حملے کی تحاریک پیش کیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مسلم لیگ ن کے سینٹرز کو مخاطب کر کے کہا کہ 'میں اپنی ذاتی حیثیت میں مشورہ دے رہا ہوں کہ وزیرِ اعظم نواز شریف پر سنگین الزامات لگ گئے ہیں اور وہ اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں۔‘

٭ ’فلیٹس کے ذرائع ثابت نہ ہوئے تو عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی اثر ہوگا‘

٭ سلمان اکرم راجہ ہکا بکا روسٹم پر کھڑے رہے۔۔۔

نامہ نگار شمائلہ خان کے مطابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ 'آپ کے استعفیٰ دینے سے جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔‘

جواب میں ن لیگ کے سینیٹر مشاہد اللہ نے کہا کہ 'ڈاکٹر عاصم کے خلاف بننے والی جے آئی ٹی نے کہا کہ 443 ارب روپے کا فراڈ کیا گیا ہے لیکن آپ نے ان سے استعفے کا مطالبہ کرنے کی بجائے انھیں کراچی میں جماعت کا صدر مقرر کردیا۔‘

انھوں نے کہا کہ 'پاناما پیپرز میں وزیرِاعظم نواز شریف کا نام نہیں ہے لیکن پیپلز پارٹی کے ارکان کا نام شامل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

سینیٹر غوث محمد خان نیازی نے اس موقع پر کہا کہ 'جو لوگ وزیرِ اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں ان کے قول و فعل میں تضاد ہے کیونکہ جب آصف علی زرداری پر الزامات تھے تو انھیں صدارت چھوڑنے کا مشورہ نہیں دیا گیا۔‘

ایوان میں جہاں حزبِ اختلاف کے بیشتر اراکین نے پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی خدمات کو سراہا وہیں مسلم لیگ ن کے سینیٹرز کا مؤقف تھا کہ جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔

مسلم لیگ ن سے ساجد میر نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو ٹارگٹڈ آپریشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ'جے آئی ٹی میں بعض دستاویزات غیر تصدیق شدہ اور بعض نتائج شواہد کے بغیر پیش کئے گئے۔

انھوں نے سوال کیا کہ کیا یہ لوگ اتنے ذہین و عقل مند تھے یا انھیں بنی بنائی رپورٹس مل گئیں۔ وہ رپورٹس جو مشرف دور میں تیار کی گئیں تھیں؟

اس کے جواب میں سینٹ میں حزبِ اختلاف کے رہنما اعتزاز احسن نے کہا کہ'تحقیقات کے لیے 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے 13 سوال دیے تھے۔ کیا وہ بھی 10 سال پہلے بنائے گئے تھے؟'

تاہم سینیٹر مشاہد اللہ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو 80 فیصد ذرائع پر مبنی قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ 'جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء نے دستاویزات نکلوانے کے لیے لندن میں اپنے کزن کی کمپنی کی مدد لی اور انھیں 49 ہزار پاؤنڈز ادا کیے۔ اس سے بڑی کرپشن کیا ہوسکتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سینیٹر پرویز رشید نے جذباتی انداز میں خطاب کرتے ہوئے ایوان سے سوال کیا کہ 'پاکستان میں ون یونٹ کا قیام زیادہ تباہی کا سبب بنی یا کسی سیاست دان کی بدعنوانی؟'

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے پاناما کیس کے دوران جاری ہونے والی ٹوئٹ کا ذکر کیا کہ ایسی ٹویٹس اُس وقت سامنے نہیں آئیں جب مشرف عدالت جارہے تھے اور راستے سے انھیں ہسپتال لے جایا گیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر شاہی سید نے کہا کہ'وزیرِ اعظم نے خود کو احتساب کے لیے پیش کیا تھا کہ میرا احتساب کریں۔ پھر کیوں نہ ہوا؟ جو کام پارلیمان نے کرنا تھا وہ ہم نہ کرواسکے۔‘

'سیاست دان ایک دوسرے کو ذلیل کررہے ہیں اور لگتا ہے کہ کوئی طاقت ایسی ہے جو چاہتی ہے کہ ایسا ہو تاکہ عوام کا اعتبار سیاست دانوں سے اٹھ جائے۔‘

اسی بارے میں