پاناما کیس: اب کیا ہو گا؟

پاناما کیس کی سماعت مکمل ہوتے ہی یہ سوال عدالت کی راہداریوں سے لے کر سرکاری محلات کی غلام گردشوں میں زیرِ بحث ہے اور یہ بحث فیصلہ جاری ہونے تک جاری رہے گی۔

سپریم کورٹ کے بار روم میں وکیل اسی نکتے پر بحث کرتے نظر آئے کہ عدالت کا فیصلہ مرحلوں میں آئے گا یا ایک ہی بار تفیصلی فیصلہ جاری ہو گا؟ فیصلہ سنانے کے لیے وزیراعظم کو ذاتی طور پر بلایا جائے گا یا نہیں؟ یہ فیصلہ اگلے ہفتے آ جائے گا یا ججوں کو مختلف برِ اعظموں پر پھیلے اس پیچیدہ مقدمے پرغور و خوض کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فیصلہ وزیر اعظم کے حق میں آئے گا یا خلاف؟

’فلیٹس کے ذرائع ثابت نہ ہوئے تو عوامی عہدہ رکھنے والوں پر بھی اثر ہوگا‘

’وزیراعظم کے استعفیٰ دینے سے جمہوریت کو خطرہ نہیں ہوگا‘

’رپورٹ میں شامل دستاویزات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

ان سوالوں کے جوابات بھی ہر ایک کے پاس موجود ہیں لیکن ان کی بنیاد صرف قیاس ہی ہے کیونکہ ان کے لیے جو اطلاعات چاہئیں وہ ظاہر ہے کسی کے پاس نہیں۔

بعض انتظامی نوعیت کے معاملات پر البتہ کچھ اطلاعات دستیاب ہیں۔ مثلاً سابق جج طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت کے اگلے ہفتے کے مقدموں کی فہرست کے مطابق یہی تین رکنی بنچ اسلام آباد میں ہی موجود ہے۔ لیکن اس سے اگلے ہفتے شاید ان میں سے ایک جج چھٹی پر جا رہے ہیں اور ایک لاہور بنچ میں شامل ہوں گے۔

اس بنیاد پر جسٹس (ر) طارق محمود کا خیال ہے اس مقدمے کا فیصلہ اگلے ہفتے بھی آ سکتا ہے۔

عدالت میں پاناما کیس کی سماعت مکمل ہوتے ہی سیاسی میدان میں بھی ہلچل دکھائی دی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے قانونی اور سیاسی مشیروں کو وزیر اعظم ہاؤس اور عمران خان نے بنی گالا طلب کیا جبکہ پیپلز پارٹی کا اجلاس بلاول بھٹو کی سربراہی میں بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔

یہاں بھی ڈھیر سارے سوالات ہیں جن کے جواب ہر کوئی اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق تلاش کر رہا ہے۔ مثلاً یہ کہ کیا وزیراعظم کو عوامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جائے گا یا یہ معاملہ ماتحت عدالت میں جائے گا؟ اس معاملے میں مزید تفتیش نیب کے سپرد ہو گی یا ایف آئی اے کو یہ کام سونپا جائے گا؟ الیکشن کمیشن اور سپیکر قومی اسمبلی کا اس سارے معاملے میں کیا کردار ہو سکتا ہے؟

حکمران جماعت کے ارکان خاصے پرامید ہیں کہ ان کے مخالفین عدالت کے سامنے اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکے لہٰذا وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ البتہ سیاسی معاملات کے بارے میں حکمران جماعت کے لوگ اتنے پر یقین نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ قانونی میدان میں تو ان کی فتح یقینی ہے لیکن اس معاملے کو سیاست کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو گڑبڑ ہو سکتی ہے۔

مسلم لیگ کے رہنما طلال چوہدری نے آج بھی اس جانب اشارہ کیا۔ سپریم کورٹ میں سماعت ختم ہونے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے رہنماؤں کا 'آسرا' کوئی اور ہے۔

'اب مخالفین کا آسرا ختم ہو رہا ہے اور ان کے پاس 2018 کے الیکشن میں جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ سیاسی مخالفین اداروں کا کندھا استعمال کرکے نواز شریف کو گرانا چاہتے ہیں'۔

اگلے چند دن میں جب عدالت کے جج فیصلہ تحریر کرنے میں مصروف ہوں گے، ملک میں سیاسی صف بندی جاری رہے گی کیونکہ فیصلہ کچھ بھی آئے اس کے نتیجے میں سیاسی دنگل ہونا یقینی ہے۔

اسی بارے میں