'شیخ صاحب آپ یہ بات بہت مرتبہ بتا چکے ہیں اب آگے چلیں'

ڈار

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس سے متعلق آج آخری سماعت تھی اور آج کی سماعت اور گذشتہ ہونے والی چار سماعتوں کے درمیان کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ اگر فرق کوئی تھا تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی بڑی تعداد میں سپریم کورٹ میں آمد اور عدالتی کارروائی کو دیکھنا تھا۔ اس معاملے کو بھانپتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف جو کہ ان درخواست میں سے ایک درخواست گزار بھی ہے، کے رہنما بھی ایک بڑی تعداد میں موجود تھے۔

سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک بھی آج پہلی بار پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت دیکھنے کے لیے آئے تھے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے رحمان ملک کے بارے میں اچھے ریمارکس نہیں دیے تھے۔

دونوں جماعتوں کے رہنما ایک دوسرے پر طنز کے تیر بھی چلاتے رہے۔

’وزیراعظم کی نااہلی کے معاملے کو بھی ضرور دیکھیں گے‘

سلمان اکرم راجہ ہکا بکا روسٹرم پر کھڑے رہے۔۔۔

پاناما کیس: اب کیا ہو گا؟

فواد چوہدری جو آج کل پاکستان تحریک انصاف کے ترجمانوں میں سے ایک ترجمان ہیں اور وہ اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں ہی تھے، اُنھوں نے قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'وہ اس میچ کی ٹرافی اُٹھانے آئے ہیں جو اُنھوں نے کھیلا ہی نہیں'۔ اس پر فیصل کنڈی نے فواد چوہدری کو جواب دیا کہ جب پاناما کا معاملہ سامنے آیا تو وہ اس وقت بارہویں کھلاڑی تھے جس پر فواد چوہدری نے کہا کہ کبھی کبھی بارہواں کھلاڑی بھی ٹیم کو میچ جتوا دیتا ہے۔

سماعت سے پہلے ہی کمرہ عدالت بھر چکا تھا اور آج عدالت کا موڈ اس طرح جارحانہ نہیں تھا جس طرح جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران تھا۔

وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے اعتراف کیا کہ کل اُنھیں کافی 'ٹف ٹائم ملا تاہم آج ججز نے ان کی تعریف کی کہ وہ اچھی تیاری کرکے آئے ہیں۔'

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل جب اپنے موکل کا ٹیکس سے متعلق 34 سالہ ریکارڈ لے کر آئے تو بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے اُن کے وکیل سے استفسار کیا کہ اس میں کوئی نئی چیز ہے یا پھر یہ ڈبہ میڈیا میں خبروں کی زینت بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔ اس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران دلائل دینے میں سب سے زیادہ وقت وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے وکیل خواجہ حارث اور سلمان اکرم راجہ نے لیا۔ جواب الجواب میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے بھی دلائل دیے۔ شیخ رشید نے جواب الجواب دینا شروع کیے تو پہلے اُنھوں نے کہا کہ مائی لارڈز میں چھ مرتبہ وفاقی وزیر رہ چکا ہوں جس پر عدالت نے کہا کہ 'شیخ صاحب آپ یہ بات بہت مرتبہ بتا چکے ہیں اب آگے چلیں'۔

شیخ رشید نے اپنے روایتی انداز میں کہا کہ مائی لارڈز 'وزیر اعظم نے عربیوں کو بھی چونا لگایا ہے اور اُنھوں نے ایف زیڈ ای کمپنی میں نوکری لینے کے لیے اقامہ لیتے وقت یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستان میں وزیر اعظم لگے ہوئے ہیں'۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم نے پاناما سے اقامہ تک کا سفر بڑی جلدی طے کیا ہے۔

جماعت اسلامی کے وکیل توفیق آصف نے دلائل دینا شروع کیے تو کچھ دیر تو جج صاحبان دلائل سنتے رہے اور پھر کہا کہ 'آپ درخواست گزار کی طرف سے دلائل دے رہے ہیں یا مدعاعلیہان کی طرف سے'۔ اس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہہ بلند ہوا اس پر جماعت اسلامی کے وکیل نے عدالت کو محاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'مائی لارڈز نے گذشتہ سماعتوں کے دوران بھی اُن کے بارے میں کچھ آبزرویشن دی تھیں جس پر میڈیا میں انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا'۔ اس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اب عدالت میڈیا پر پابندی تو نہیں لگاسکتی۔

پامانا لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت ختم ہوئی تو سب سے زیادہ پرسکون وہاں پر تعینات سینکڑوں پولیس اہلکار تھے جو گذشتہ پانچ روز سے سپریم کورٹ کے باہر اور اندر اپنے فرائص سرانجام دے رہے تھے۔

سماعت کے بعد اپنے گھروں کو جاتے ہوئے پولیس اہلکار ایک دوسرے کو کہہ رہے کہ 'فیصلہ جو وی ہوئے کم از کم ساڈی جان تے چھٹی'۔

اسی بارے میں