وہ خبریں جو صرف سوشل میڈیا تک ہی رہیں

پشاور تصویر کے کاپی رائٹ ARSHAD ARBAB
Image caption 17 جولائی کو پشاور میں ایف سی کی گاڑی کے قریب خود کش حملہ کیا گیا جس میں دو اہلکار ہلاک ہوئے۔

سوشلستان میں پاناما کے حوالے سے الزامات، جوابی الزامات، کردار کُشی اور ذاتی حملے شدت کے ساتھ جاری ہیں۔ سپریم کورٹ کے احاطے میں لگے روسٹرم پر کھڑے ہو کر ملک کے نامور سیاسی رہنما وزرا اپنے حملوں میں ایسی ایسی باتیں کر چکے ہیں جنہیں سن کر آپ کو لگتا ہے کہ اس معزز فورم پر اب کیا کچھ کہا جانا باقی ہے۔ عدالت کی کارروائی جس انداز میں میڈیا میں پیش کی جا رہی اس کے نتیجے میں سوشل میڈیا پر میمز اور مکالمے باقاعدگی سے پیش کیے جا رہے ہیں۔

مگر ہم سوشلستان میں پاناما جے آئی ٹی کی نہیں بلکہ ان خبروں کی بات کریں گے جو اس سارے عمل کے دوران میڈیا پر کوریج نہ ملنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہیں۔

وہ خبریں جو میڈیا پر نظر نہیں آئیں

تیرہ جولائی کو تین پولیس اہلکار اور ایس پی مبارک شاہ کوئٹہ میں ایک دہشت گردی کے حملے میں ہلاک ہو گئے۔ مگر یہ خبر شاید آپ کی نظر سے گزری ہو۔

سید طلعت حسین نے لکھا 'ایس پی مبارک شاہ اور تین پولیس اہلکاروں شہید ہوئے مگر میڈیا پر یہ خبر نہیں بن سکی۔ بہت ہی افسوسناک بات ہے۔'

دوسری خبر پاکستان کے ایوانِ بالا میں اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے سائبر کرائم کے قانون کو قومی سلامتی کے لیے استعمال کرنے کےبجائے اسے سیاسی آلہ بنانے کے معاملے کی نشاندہی کی گئی۔

یہ بات بھی سامنے آئی کہ حسبِ وعدہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف آئی اے ہر چھ ماہ بعد اپنی رپورٹ پارلیمان میں پیش کرے گا مگر چھ ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باجود یہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔

جہاں ایسی ویب سائٹس کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا اور جو فرقہ واریت پھیلاتی ہیں وہیں یہ بھی بتایا گیا کہ ایسی 64 ویب سائٹس میں سے 41 اب بھی فعال ہیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ 'اگر بات ہوتی ہے کہ آپ 90 ایکٹر زمین دے رہے ہو، کس قاعدے قوانین کے تحت، تو یہ کہاں سے بدنامی کی بات ہوگئی؟ اسے قومی سلامتی کے لیے خطرے اور فوج کی بدنامی نہیں سمجھا جانا چاہیے۔'

اسد ہاشم نے ٹویٹ کی کہ 'سائبر کرائم کا قانون خطرناک ہے اور آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے کے لیے ہے۔'

اس سارے معاملے کے دوران اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے پاکستان کا جائزہ اجلاس منعقد کیا جہاں پاکستان کے انسانی حقوق کے وزیر کامران مائیکل نے شرکت کی اور سوالات کے جوابات دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ JPP
Image caption پاکستان کے وزیر برائے انسانی حقوق کامران مائیکل اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سامنے پاکستان کے سالانہ جائزے کے موقع پر

ایچ آر سی نے پاکستانی حکومت کے موقف پر سوالات کیے جنہیں پاکستانی مندوبین نے لائیو ٹویٹ کیا اور سوشل میڈیا پر نشر بھی کیا۔

ریما عمر نے لکھا 'ایچ آر سی نے حکومتِ پاکستان کو بتایا کہ اسے اتنی بڑی تعداد میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی ہلاکتوں پر تفتیش ہے جس کے مقابلے میں سزائیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔'

ایچ آر سی نے سوال کیا کہ 'آخر کیوں لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کی عمر کے حوالے سے ملک بھر میں فرق ہے؟ پورے ملک میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے یہ عمر 18 برس ہونی چاہیے۔

لاپتہ افراد کے معاملے میں پاکستانی وزیر نے وضاحت پیش کی کہ یہ لوگ 'خود ہی لاپتہ ہو جاتے ہیں' جس کے جواب میں ایچ آر سی نے پوچھا کہ 'آپ کیسے سپریم کورٹ کی جانب سے اس بات کوتسلیم کیے جانے کا انکار کر سکتے ہیں کہ ملک کی سکیورٹی ایجنسیاں لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے عمل میں لوث ہیں۔'

جس کے جواب سے مطمئن نہ ہونے پر ایچ آر سی نے کہا کہ 'پاکستانی وفد ایسے اقدامات یا مقدمات کی فہرست پیش کرنے میں ناکام رہی ہے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ حکومت نے جبری گمشدیوں پر کارروائی کی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کوئی کچھ بھی کر سکتا ہے بغیر اس خوف کے کہ اس کے خلاف کارروائی ہو گی۔'

اگر آپ اس بارے میں مزید پڑھنا چاہتے ہیں تو پاکستان کے جنیوا میں مستقل مشن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ، انسانی حقوق کی کارکن سارہ بلال اور وکیل ریما عمر کے ٹوئٹر ٹائم لائن پر پڑھ سکتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کراچی میں ایک عمارت گرنے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آگ پر پکانے کے لیے ایک کارکن دیگوں کے پیندے پر مٹی لگ رہا ہے جو گیس کے عام ہونے سے قبل ہر گھر میں ہوتا تھا اور شاید اب بھی دیہات میں ہوتا ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کوئٹہ میں ہزارہ برادی کے افراد ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی نمازِ جنازہ ادا کر رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں ہزارہ برادری کے خلاف تشدد کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوا جن میں خواتین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔