پی ٹی آئی کا پشاور بس منصوبہ تاخیر کا شکار کیوں؟

بس

تقریباً 40 لاکھ کی آبادی پر مشتمل خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور میں ٹریفک ہمیشہ سے ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ شہر میں گاڑیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ اور بے ہنگم ٹریفک نے اسے سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے درد سر بنا دیا ہے۔

تاہم خیبر پختونخوا میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے گذشتہ برس ریپڈ ٹرانزٹ کے نام سے ایک نئی اور بین الاقوامی معیار کی بس سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن تاحال اس پر تعمیراتی کام کا آغاز نہیں کیا جاسکا جس سے بظاہر یہ منصوبہ تاخیر کا شکار نظر آرہا ہے۔

پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے پر تقریباً 50 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جائے گی۔

اس سے پہلے لاہور اور راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبوں پر بالترتیب تقریباً 30 ارب اور 44 ارب روپے کی رقم خرچ کی گئی جو پشاور بس منصوبے کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان دھرنوں کے دوران پنجاب اور اسلام آباد روالپنڈی میٹرو منصوبوں کو خطیر رقم سے بنانے پر وفاقی اور پنجاب حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

تاہم پشاور ڈویلپمینٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل سلیم وٹو کا کہنا ہے کہ پشاور بس پراجیکٹ پر لاگت کا تخمینہ اس وجہ سے زیادہ لگایا گیا ہے کیونکہ اس میں عوام کے لیے سہولیات زیادہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ملک کے دیگر بی آر ٹی پراجیکٹ کے مقابلے میں ہر لحاظ سے مختلف ہے اور اسے تھرڈ جنریشن منصوبہ بھی کہا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ واحد پراجیکٹ ہے جس کی بین الاقوامی ٹینڈرنگ کی گئی ہے اور اس میں بعض جگہوں پر سائیکل چلانے والوں کے لیے بھی لین بنائے گئے ہیں تاکہ وہاں وہ سائیکلنگ کر کے محظوظ ہو سکیں۔

انھوں نے کہا کہ اس پراجیکٹ کے لیے کُل 450 بسیں خریدی جائیں گی جبکہ روزانہ ان بسوں میں تقریباً چار لاکھ افراد شہر بھر میں سفر کرسکیں گے۔ بسوں کے روٹ کے قریب شہریوں کی تفریح کے لیے پارکس اور کمرشل مراکز بھی بنائے جائیں گے۔

تقریباً 26 کلومیٹر پر مشتمل پشاور بس منصوبے کا روٹ چمکنی سے شروع ہوکر خییر بازار، صدر اور پھر وہاں سے یونیورسٹی روڈ سے ہوتا ہوا حیات آباد پر جاکر ختم ہو جاتا ہے۔

منصوبے کے مطابق بعض جگہوں پر روٹ کو مختصر کرنے کے لیے زیر زمین سرنگیں بنائی جائیں گی جبکہ کچھ مقامات پر فلائی اوور بنا کر وہاں سے سڑک گزاری جائے گی تاکہ روٹ کو مزید طوالت سے بچایا جائے۔

ایشیئن ڈویلپمینٹ بینک کے تعاون سے تین حصوں میں تعمیر کیے جانے والے اس پراجیکٹ کو چھ ماہ کے عرصے میں مکمل کیے جانے کا وعدہ کیا گیا ہے لیکن تاحال اس منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز بھی نہیں کیا جاسکا ہے۔

ابتدائی طورپر اس منصوبے کو ایک سال میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی طرف سے ہدایت کے بعد اب اسے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

وزیراعلی کی خواہش ہے کہ یہ منصوبہ ان کے دور میں مکمل ہو۔

اس منصوبے سے منسلک بعض سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ کے ٹینڈر میں بلاوجہ تاخیر سے کام لیا گیا جس سے منصوبہ وقت پر شروع نہیں کیا جاسکا۔ انھوں نے کہا کہ ابھی پھر کہا جارہا ہے کہ اگست کے ماہ میں تعمراتی کام شروع کیا جائے گا لیکن بظاہر لگتا نہیں کہ مقررہ وقت پر کام کا آغاز ہوسکے۔

ادھر دوسری طرف پشاور کی بعض ٹرانسپورٹ تنظیموں نے اس بس منصوبے پر کئی قسم کے تحفطات کا اظہار کیا ہے۔

پشاور میں ٹرانسپورٹ یونین کے ایک نمائندے رحمت خان اورکزئی نے کہا کہ اس پراجیکٹ سے عام لوگوں بالخصوص رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو فائدے کی بجائے نقصان کا خدشہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پبلک ٹرانسپوٹ کے بیشتر ڈرائیور بے روزگار ہوجائیں گے جس سے مزید مسائل جنم لیں گے۔

رحمت خان کے مطابق اگر حکومت یہ 50 ارب روپے میٹرو بس کی بجائے سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور اسے کشادگی کرنے پر لگاتی تو شہر کے بیشتر مسائل حل ہوسکتے ہیں۔

آئندہ عام انتخابات میں دوبارہ کامیابی کے اعتبار سے تحریک انصاف کی حکومت کے لیے اس منصوبے کو انتہائی اہم مانا جا رہا ہے۔

صوبہ پنجاب میں اسی قسم کا منصوبہ بعض ماہرین کے خیال میں ان کی انتخابات میں کامیابی کا باعث بنا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں