’مطالبات تسلیم‘ ہونے کے بعد آئل ٹینکروں کی ہڑتال ختم

آئل ٹینکر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے بعد لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے (فائل فوٹو)

آئل ٹینکر ایسوسی ایشن اور اوگرا کے درمیان بدھ کو اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے جب کہ ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔

اسلام آباد میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا سے مذاکرات کے بعد ایسوسی ایشن کے ارکان نے میڈیا کو بتایا کہ حکومت سے مذاکرات کامیاب رہے ہیں جس کے باعث ہڑتال ختم کر دی گئی ہے۔ جس کے بعد تیل کی فراہمی اور صورتِ حال معمول پر آنے میں پانچ سے چھ گھنٹے لگیں گے، تاہم ہر شہر میں ضرورت کے مطابق تیل موجود ہے۔

اس سے قبل آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کے تیسرے دن ملک کے مختلف حصوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی تھی اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔

٭ آئل ٹینکر حادثہ: سزا کا حقدار کون، اوگرا یا شیل؟

اوگرا کے ڈائریکٹر عمران غزنوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیر پٹرولیم نے یہ اجلاس طلب کیا تھا کیونکہ اوگرا کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کی نگران نہیں ہے اور اوگرا صرف آئل ماکیٹنگ کمپنیاں کی نگرانی کرتی ہے۔ چنانچہ وزارت پٹرولیم نے انھیں بلایا اور باقی بھی تمام متعلقہ ادراوں کے نمائندے کو طلب کیا جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی، موٹر وہیکل ایگزامینر اور تمام آئل ماکیٹنگ کمپنیاں بھی تھیں، اور آئل ٹیکٹرز ایسوسی ایشن اور کارٹیج ایسوسی ایشن کے لوگ بھی تھے۔

حفاظتی شرائط کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اوگرا،وزارت پٹرولیم یا حکومت یہ نہیں کہتی کہ آپ انسانی جانوں پر سمجھوتہ کریں لیکن تمام ٹینکروں کو حفاظتی معیار کے مطابق بنانے کے لیے وقت کا تعین کیا جائِے گا۔

عمران غزنوی نے کہا کہ ’جب تک تمام ٹینکرز مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں بنائے جائیں گے اس وقت تک کوئی حادثہ ہونے کی صورت میں تمام تر ذمہ داری تیل بیچنے والی کمپنیوں پرعائد ہوگی۔ٌ

انھوں نے کہا کہ اوگرا نے تمام آیل کمپنیوں پر یہ واضح کر دیا ہے کہ بارہ ہزار ٹینکروں کو حفاظتی معیار کے مطابق بنانے میں وقت لگے گا اور اگر اس دوران کوئی حادثہ ہو گیا جس میں جانی اور مالی نقصاں ہوا تو اس کی ذمہ داری متعلقہ کمپنی پر عائد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وقت کا تعین کیا جائے گا اور حفاظتی معیار پر عمل درآمد کروایا جائے گا اور اس کی نگرانی بھی کی جائے گی۔ ‘

انھوں نے کہا کہ ان کے پاس موجود ڈیٹا کے مطابق تقریباً 40 فیصد آئل ٹینکر معیار پر پورا اترتے ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ ہڑتال سانحۂ احمد پور شرقیہ میں ایک آئل ٹینکر میں آگ لگنے کے بعد دو سو سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد حکومت کی جانب سے ٹینکروں میں زیادہ حفاظتی اقدامات کے مطالبے کے خلاف کی گئی تھی۔

ہڑتال کی وجہ سے ملک بھر میں بیشتر پیٹرول پمپ بند ہو گئے تھے اور جہاں پیٹرول دستیاب تھا وہاں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں تھیں۔

بعض لوگوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل سڑکوں پر ہی بند ہو گئیں تھیں اور لوگ بوتلیں ہاتھوں میں تھامے پیٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے ۔

صورتِ حال اس وقت مزید خراب ہو گئی تھی جب گذشتہ روز ہڑتالی ڈرائیوروں نے ان ڈرائیوروں کو بھی ٹینکر چلانے سے روک دیا جو ہڑتال میں حصہ نہیں لے رہے تھے۔

25 جون کو احمد پور شرقیہ میں ہونے والے حادثے کے بعد اوگرا نے حادثے کی ذمہ داری شیل کمپنی پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ٹینکر اوگرا یا کسی بھی سرکاری یا نجی حفاظتی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔

Image caption پیٹرول پمپوں پر لوگوں کی بھیڑ

اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو ڈرائیور اوگرا کی حفاظتی شرائط پوری نہیں کر رہے ان کے لائسنس معطل کر دیے جائیں اور ان کو گرفتار کر لیا جائے۔

کراچی کے مضافاتی علاقوں میں بعض جگہ پیٹرول دستیاب ہے تاہم شہر کے اندر اکثر پیٹرول پمپ بند ہیں۔ سڑکوں پر ٹریفک کم ہو گئی ہے اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے کرایے بڑھا دیے ہیں۔

اوگرا کا مطالبہ تھا کہ ہر ٹینکر کا وزن متوازن رکھنے کے لیے ان میں ٹائروں کی تعداد بڑھائی جائے۔ اگر کسی ٹرک میں چھ ٹائر ہیں تو آٹھ کیے جائیں، آٹھ ہیں تو دس کیے جائیں، وغیرہ۔

دوسری جانب ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایک تو یہ کام اس قدر جلدی نہیں ہو سکتا، اور دوسرے یہ کہ اس پر فی گاڑی دس سے 12 لاکھ روپے لگیں گے جب کہ ایندھن کا خرچ الگ بڑھ جائے گا، جسے اکثر ڈرائیور برداشت نہیں کر سکتے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ سڑکیں بہتر بنائے اور موڑوں کی تعداد کم کی جائے۔

گذشتہ روز اوگرا اور آل پاکستان آئل ٹینکر ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے تھے۔

اوگرا کے ترجمان عمران غزنوی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ٹینکرز ایسوسی ایشن کی پشت پناہی کر رہی ہیں جب کہ ٹینکرز ایسوسی ایشن اوگرا کے لائسنس یافتہ نہیں ہے اوگرا کی لائسنسی آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں۔

ترجمان اوگرا نے کہا کہ کمپنیوں کی جانب سے قوانین سے راہِ فرار کی کوشش کی جا رہی ہے اور حفاظتی قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں انسانی جانوں پر سمجھوتہ کرنا چاہتی ہیں تاہم اوگرا ایسا کرنے نہیں دے گا۔

ادھر پشاور سے نامہ نگار رفعت اورکزئی کے مطابق اکثر پیٹرول پمپ بند ہیں وہاں رسیاں لگا کر گاڑیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو سخت مشکل کا سامنا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں