12 سالہ لڑکی کے ریپ کے بدلے میں 17 سالہ لڑکی کا ریپ

ریپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریپ کے بدلے میں ریپ کا یہ پہلا واقع ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے مظفرآباد میں ایک ہی خاندان کے لوگوں کے فیصلے پر ایک 17 سالہ لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق ایک ہی خاندان کے دو گروہوں کے افراد، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، نے کچھ روز قبل ایک 12 سے 14 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے واقعے میں آپس میں فیصلہ کیا کہ اس میں ملوث ملزم کے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ بھی اسی طرح انتقامی جنسی زیادتی کی جائے۔

محمد امین نامی شخص کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملزم عمر وڈا کی 17 سالہ چچا زاد بہن کے ساتھ بدلے کہ طور پر جنسی زیادتی کی گئی۔ پولیس کے مطابق اس کے بعد دونوں فریقین میں مبینہ طور پر صلح ہو گئی۔

پولیس کو معاملے کا علم وومن پولیس سٹیشن ملتان میں درج ایک درخواست کے ذریعے ہوا۔

سٹی پولیس آفیسر ملتان احسن یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کوئی روایتی پنچائیت نہیں تھی بلکہ ایک ہی خاندان کے لوگوں نے آپس ہی میں تمام معاملات طے کر لیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 17 سالہ لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں فریقین میں صلح ہو گئی جس کا صلح نامہ بعد میں تفتیش کے دوران پولیس کو بھی دکھایا گیا تھا۔

’لڑکی کی میڈیکل رپورٹ میں تصدیق ہوئی ہے کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ پولیس نے اپنی مدعیت میں فیصلہ دینے والے سرپنچ محمد امین اور فریقین کے 26 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔‘

احسن یونس نے بتایا کہ 20 افراد زیرِ حراست ہیں تاہم لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شخص تا حال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔

واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ پولیس کہ علم میں یہ واقع اس وقت آیا جب 16 جولائی کو بیگم مائی نامی ایک خاتون نے ویمن پولیس سٹیشن ملتان میں شکایت درج کروائی کہ عمر وڈا نامی ایک شخص نے اس کی 12 سالہ بیٹی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

اس نے پولیس کو بتایا کہ موقع پر کچھ افراد نے عمر وڈا کو پکڑ لیا اور گھر لے آئے تاہم اس وقت لڑکی کا باپ حق نواز گھر پر موجود نہیں تھا اس لیے اس کو چھوڑ دیا گیا۔ دونوں فریقین آپس میں رشتہ دار ہیں۔

مائی نے پولیس کو بتایا کہ اگلے روز ان کے شوہر خاندان کے ایک اور شخص محمد امین کے ہمراہ عمر وڈا کے گھر پہنچے اور ان کے والد نذیر حسین سے مبینہ زیادتی کا بدلا دینے پر اصرار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محمد امین کے فیصلے پر یہ طے پایا کہ جس طرح 12 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اس کا بدلہ بھی اسی طرح لیا جائے گا۔ جس کے اگلے روز نذیر حسین اپنی 17 سالہ بھتیجی کو لے کر ان کے گھر آئے اور اس کو بدلے کے طور پر پیش کر دیا۔

مائی کے مطابق جب 12 سالہ لڑکی کے بھائی اشفاق نے 17 سالہ لڑکی کو الگ کمرے میں ریپ کیا تو اس وقت محمد امین اور دوسرے افراد بھی گھر میں موجود تھے۔ تاہم ان کے مطابق بعدازاں نذیر حسین نے پنچائیت کے صلح کے فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 17 سالہ لڑکی کا میڈیکل کروا کر پولیس میں رپورٹ درج کروا دی۔

اس پر اپنی درخواست میں انھوں نے بھی پولیس سے استدعا کی کہ ان کی 12 سالہ بیٹی کا میڈیکل کروانے کی اجازت دی جائے تا کہ وہ بھی عمر وڈا کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکیں۔

سٹی پولیس آفیسر ملتان احسن یونس نے بی بی سی کو بتایا کہ اس شکایت پر پولیس کو معاملے کا علم ہوا جس پر دوبارہ تفتیش کی گئی جس کے بعد گرفتاریاں عمل میں آئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کے بعد 17 سالہ لڑکی کو زیادتی کی سزا دینے اور اس پر عمل کرنے میں ملوث تمام افراد کے خلاف تھانہ مظفر آباد میں پولیس کی مدیعت میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اسی بارے میں