تیل کی ترسیل صرف نجی آئل ٹینکرز پر کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں حکومت کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے حاصل ہوتا ہے لیکن ملک میں نجی آئل ٹینکرز مالکان کی ہڑتال اور اس کے نتیجے میں عوام کو ہونے والی پریشانی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر تیل کی ترسیل کا انحصار صرف نجی آئل ٹینکرز پر کیوں ہے۔

آئل ٹینکرز نے بدھ کو تقریباً 48 گھنٹوں کی ہڑتال حکومت سے مذاکرات کے بعد ختم کر دی جس میں دونوں فریق اپنے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔

اس ہڑتال کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں پیٹرول تقریباً ناپید ہو گیا تھا اور اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوتے تو صورتحال مزید ابتر ہوتی دکھائی دے رہی تھی اور اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے رویے میں نرمی فطری عمل تھا۔

٭ ’مطالبات تسلیم‘ ہونے کے بعد آئل ٹینکروں کی ہڑتال ختم

٭ گاڑیوں موٹرسائیکلوں کی قطاریں، پٹرول ندارد

تو آخر حکومت آئل کی ترسیل کے لیے کسی متبادل ذریعے کا استعمال کیوں نہیں کرتی؟

سابق وزیر پیٹرولیم سید نوید قمر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کبھی بھی تیل کی ترسیل کے لیے آئل ٹینکرز ہی مستقل حل نہیں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ترجیحات کی بات ہے جہاں حکومتیں کئی دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کرتی ہیں وہیں یہ انتہائی اہم شعبہ عدم توجہی کا شکار ہے۔

ان کے مطابق سوئی گیس اور انرجی کے شعبوں پر تو مکمل توجہ دی جا رہی ہے لیکن تیل پر اس طرح سے توجہ نہیں دی جا رہی۔

سابق وزیر پیٹرولیم نوید قمر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی اب پائپ لائنز پر سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ان کے بقول تنہا سرکاری سطح پر پائپ لائنز پر کام کرنا مشکل ہے۔

اسی حوالے سے سابق پیٹرولیم سیکریٹری جی اے صابری کا کہنا تھا کہ یہ سارا مسلہ صرف کراچی میں ہے اور ان کے مطابق اگر ذوالفقار آباد آئل ٹرمینل کی منتقلی کا منصوبہ مکمل ہو جاتا تو وہاں سے تیل کی ترسیل ٹرینوں اور پائپ لائنز کے ذریعے بڑے آرام سے کی جا سکتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئل ٹینکر مافیا کافی پرانا اور بڑا ہے لیکن ان کے مطابق پھر بھی یہ مسلہ اتنا بڑا نہیں کہ اسے حل نہ کیا جا سکے، 'اس کی وجہ صرف بد انتظامی ہے۔'

انھوں نے بتایا کہ ماضی میں بھی آئل ٹینکرز مالکان کی طرف سے ایسا کیا جاتا تھا لیکن اس وقت ڈی جی کی سطح پر ہی معملات کو حل کر لیا جاتا تھا بعد میں یہ چیز اس حد تک بڑھ گئی کہ آئل ٹینکرز مالکان مذاکرات کے لیے وزیر خزانہ اور وزیر اعظم تک پہنچنے لگے۔

ان کے مطابق تیل کی ترسیل کے لیے پائپ لائنز اور ریلوے سب سے سستے اور ذرائع ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ پائپ لائنز پہلے ملتان اور پھر شیخوپورہ تک بچائی گئیں لیکن آگے نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

آخر کیا وجہ ہے کہ تیل کی ترسیل کے لیے پاکستان ریلوے کا استعمال نہیں کیا جارہا ؟ اس پر جی اے صابری کا کہنا تھا کہ '1993-94 کے دوران ریلوے کی نجی کاری کرنے کے لیے پہلے اس نظام کو خراب کیا گیا اور پھر بعد میں اس کے ذریعے تیل کی ترسیل کا سلسلہ ٹرینوں کے ذریعے تقریباً ختم ہو کر رہ گیا۔'

تاہم اس بارے میں سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ 'اس وقت پاکستان ریلوے اس پوزیشن میں نہیں کہ اتنے بڑے پیمانے پر تیل کی ترسیل کر سکے۔'

سید نوید قمر نے کہا کہ 'بدقسمتی سے پاکستان ریلوے ملک کے نصف حصے تک تو تیل کی ترسیل کر سکتی ہے لیکن ملک بھر میں ٹرینوں کے ذریعے یہ کام کرنا مشکل ہے۔'

آئل ٹینکرز مالکان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ ہڑتال پر سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے آئل ٹینکر مالکان کے آگے جو حفاظتی شرائط رکھی گئی تھی اس کے لیے انھیں وقت بھی دیا جانا چاہیے تھا کیونکہ ان کے مطابق یہ کام دنوں میں نہیں کیے جا سکتے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں