عمران خان نااہلی کیس: ’وکیل وہی مگر دلائل مختلف‘

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی کے خلاف درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔

عمران خان اور جہانگیر خان ترین کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں میں آئین کے اسی آرٹیکل کے تحت نااہلی مانگی گئی ہے جس کے تحت پاناما لیکس کے مقدمے میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کی درخواست کی گئی ہے۔

دستاویزات کی تصدیق کہاں سے کی جائے گی: سپریم کورٹ کا سوال

عمران خان کو کرکٹ سے کمائی گئی رقم کی تفصیل جمع کروانے کا حکم

'وکیل کب ہارتا ہے، ہارتا تو موکل ہے'

پاناما لیکس کے مقدمے میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف عمران خان اور سراج الحق کی درخواست یہی تھی کہ چونکہ نواز شریف نے نہ صرف اپنے اثاثے چھپائے بلکہ انھوں نے پارلیمان اور قوم سے خطاب کے دوران جھوٹ بولا اس لیے وہ آئین کے عوامی نمائندگی ایکٹ کے آرٹیکل 62 ایف ون کے تحت صادق اور امین نہیں رہے لہذا انھیں نااہل قرار دیا جائے۔

وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف دائر درخواستوں میں درخواست گزاروں کا موقف یہ ہے کہ جائیدادوں کے بارے میں ثبوت پیش کرنا مدعا علیہان کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو پھر وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جائے جبکہ اس کے برعکس عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف دائر درخواستوں میں ان دونوں رہنماؤں کا موقف ہے کہ بار ثبوت درخواست گزاروں پر ہے اور اگر وہ ثبوت نہ دے سکیں تو ان درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔

پاناما کیس کی سماعت کے دوران عمران خان نے عدالت سے کہا تھا کہ اپوزیشن کا کام تو الزام لگانا ہے جبکہ ثبوت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواستوں میں درخواست گزار اور حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کے وکیل بھی جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے رہے کہ بار ثبوت کسی چیز کی ملکیت تسلیم کرنے والے پر ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اسی پانچ رکنی بینچ کی سربراہی کی تھی جن میں سے ان سمیت دو ججوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف ان درخواستوں کی سماعت کے دوران وکلا کے دلائل سننے کے بعد یقین نہیں ہوتا تھا کہ یہ وہی وکلا ہیں جو وزیر اعظم کے خلاف درخواستوں میں اس کے برعکس دلائل دے رہے تھے۔

عمران خان کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں ان کے وکیل نعیم بخاری نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 183 کی سب سیکشن تین کے تحت عوامی نمائندگی ایکٹ اس زمرے میں نہیں آتا کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو نااہل ہونے والے رکن قومی اسمبلی کے پاس اپیل کا حق ختم ہو جائے گا۔

نواز شریف کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران نعیم بخاری کا کہنا تھا کہ جب تک عدالت عظمیٰ نواز شریف کو نااہل قرار نہیں دیتی اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی کے لیے متعلقہ محکمے کو احکامات جاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نعیم بخاری بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وکیل کبھی نہیں ہارتا ہمیشہ موکل ہارتا ہے۔

پاناما لیکس کے مقدمے میں جس طرح درخواست گزاروں کے پاس ناکافی مصدقہ دستاویزات تھیں اسی طرح کی صورت حال کا سامنا عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف درخواست گزار کو بھی ہے۔

ان دونوں درخواستوں میں زیادہ تر دستاویزات ویب سائٹس اور سوشل میڈیا سے لی گئی ہیں۔

دونوں جماعتوں کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت یہ موقف اپناتی رہی ہے کہ ان کے رہنماوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا ہو اس لیے عدالت انھیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دے گی اور ان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں کو تسلیم کر لیا جائے گا لیکن قانونی ماہرین کے مطابق ایسا ہونے کے امکانات بالکل نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عمران خان ان صحافیوں کو 'بےضمیر' کہنے سے بھی نہیں چوکتے جو ان کے اور نواز شریف کے معاملے کو ایک جیسا قرار دے رہے ہیں۔

اُن کا موقف ہے کہ وزیر اعظم یہاں سے پیسہ بیرون ملک لے کر گئے جبکہ وہ بیرون ملک سے پیسہ کما کر پاکستان لے کر آئے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حقائق بےشک مختلف ہوں لیکن ان دونوں درخواستوں میں ایک جیسی ہی استدعا کی گئی ہے کہ نواز شریف، عمران خان اور جہانگیر ترین کو ناہل قرار دیا جائے اور عدالت اسی معاملے پر شواہد کی روشنی میں فیصلہ دے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف نااہل ہوئے تو پھر عمران خان کی نااہلی بھی پکی ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی جیسی درخواستوں میں ایک کو نااہل قرار دیا جائے اور دوسرے کو چھوڑ دیا جائے۔

ایک طرف جہاں عمران خان وزیر اعظم کو نااہل قرار دلوانے میں بےتاب ہیں تو دوسری طرف حکمراں جماعت کی بھی یہی خواہش ہے کہ اگر ان کی قیادت کو نااہل قرار دیا جاتا ہے تو اگلے ہی لمحے عمران خان اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیا جائے تاکہ حساب برابر ہو۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان مسلم لیگ نواز سے وزیر اعظم کو نکال دیا جائے تو پھر یہ جماعت دھڑم سے نیچے آ جائے گی اور بالکل اسی طرح اگر عمران خان کو تحریک انصاف سے مائنس کر دیا جائے تو اس جماعت کی عوام میں مقبولیت نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی۔

اسی بارے میں