’سب سے زیادہ ٹیکس جہانگیر ترین نے دیا‘

جہانگیر خان ترین
Image caption جہانگیر خان ترین نے پانچ کروڑ 36 لاکھ 77 ہزار 426 روپے ٹیکس ادا کیا

پاکستان کے پارلیمان کے ارکان میں ایسے افراد بھی ہیں جو سالانہ کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں لیکن ایسے ممبران بھی ہیں جنھوں نے چند سو روپے ٹیکس جمع کرایا ہے۔

پاکستان میں ٹیکس کی وصولی کے وفاقی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) کی جاری کردہ ڈائریکٹری میں سب سے زیادہ ٹیکس پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی جہانگیر خان ترین نے ادا کیا جبکہ سب سے کم ٹیکس پاکستان پیپلزپارٹی کے ممبر سندھ اسمبلی فیاض علی بٹ نے ادا کیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق حلقہ 154 سے منتخب ہونے والے جہانگیر خان ترین نے پانچ کروڑ 36 لاکھ 77 ہزار 426 روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ سندھ اسمبلی کے حلقہ 77 سے منتخب ہونے والے فیاض علی بٹ نے ایک ہزار95 روپے ٹیکس ادا کیا۔

ایف بی آر کی فہرست میں صوبائی اسمبلیوں کے ممبران، خواتین کی مخصوص نشتوں، اقلیتوں کے نمائندوں اور ممبرانِ قومی اسمبلی کے ٹیکس کے اعداد وشمار شامل ہیں۔

ڈائریکٹری کے مطابق پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد نواز شریف نے 25 لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ٹیکس جمع کرایا اور اُن کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیرِ اعلی محمد شہباز شریف نے 95 لاکھ سے زیادہ ٹیکس جمع کرایا جبکہ شہباز شریف کے صاحبزادے اور نواز شریف کے بھتیجے حمزہ شہباز شریف نے 70 لاکھ سے زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے۔

حزبِ اختلاف کی جماعتوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک لاکھ 59 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے سوا لاکھ سے کم ٹیکس ادا کیا۔ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے 40 ہزار سے کم، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے 35 ہزار روپے سے کم اور عوامی مسلم لیگ کے رہنما شیخ رشید احمد نے پانچ لاکھ چھ ہزار سے کم ٹیکس ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایف بی آر کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے سوا لاکھ سے کم ٹیکس ادا کیا

جن ارکان نے کروڑوں میں ٹیکس ادا کیا ان میں بلوچستان سے روزی خان کاکڑ شامل ہیں جنھوں نے چار کروڑ 99 لاکھ سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، فاٹا سے تعلق رکھنے والے تاج محمد آفریدی نے تین کروڑ 52 لاکھ سے زیادہ ٹیکس ادا کیا، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طلحہ محمود نے تین کروڑ 24 لاکھ سے زیادہ، سندھ سے ڈاکٹر محمد فروغ نسیم نے دو کروڑ سے زیادہ اور اعتزاز احسن نے ایک کروڑ 38 لاکھ سے زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے۔

سب سے کم ٹیکس ادا کرنے والوں میں 11 سو روپے سے کم ٹیکس سندھ سے منتخب ہونے والے ممبر سندھ اسمبلی فیاض علی بٹ نے ادا کیا۔

اُن کے علاوہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ 210 سے ممبر منتخب ہونے والے محمد زبیر خان نے 1240 روپے ٹیکس ادا کیا، پنجاب اسمبلی کے حلقہ 296 سے منتخب ہونے والے چوہدری محمد شفیق نے 3050 روپے، سندھ اسمبلی کے حلقے 8 سے منتخب ہونے والے سردار محمد بخش خان مہر نے ساڑھے تین ہزار سے کم ٹیکس ادا کیا۔ قومی اسمبلی کے حلقہ 101 سے منتخب ہونے والے جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چیمہ نے چھ ہزار روپے سے کم اور قومی اسمبلی کے ہی حلقہ 210 سے ممبر قومی اسمبلی احسان الرحمان مزاری نے پورے سال کے دوران 11 ہزار روپے سے کم ٹیکس ادا کیا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے قواعد کے مطابق اگر کسی شخص کی سالانہ تنخواہ چار لاکھ روپے سے کم یعنی 33 ہزار 333 روپے ماہانہ ہے تو اسے ٹیکس سے استثنی حاصل ہے ورنہ اِس سے زیادہ تنخواہ پر دو فیصد کے حساب سے ٹیکس عائد ہوگا۔

اگر کسی کی آمدن ساڑھے سات لاکھ روپے سالانہ، یعنی ساڑھے 62 ہزار روپے مہینہ ہے تو اُسے ساڑھے 14 لاکھ روپے ٹیکس ادا کرنا چاہیے لیکن اگر آمدن اِس سے زیادہ ہے اور 14 لاکھ روپے سالانہ کے اندر ہے تو اُسے ساڑھے سات لاکھ روپے سے اوپر کی آمدن پر دس فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

قوائد کے مطابق 14 لاکھ روپے سالانہ آمدن یعنی ایک لاکھ 16 روپے ماہانہ آمدن والے شخص پر لازم ہے کہ وہ کم از کم 80 ہزار روپے ٹیکس ادا کرے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں