پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی مستعفی ہو جاؤں گا: چوہدری نثار

نثار تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد وزارت اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔

جمعرات کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے سیاست سے بھی کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

چوہدری نثار کو غصہ کیوں نہ آئے؟

کیا حکمران جماعت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں؟

'لہٰذا جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے چاہے وہ حق میں ہو یا مخالفت میں، میں وزارت سے بھی استعفیٰ دوں گا اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی اور آئندہ الیکشن میں بھی حصہ نہیں لوں گا۔'

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ مسلم لیگ ن سے وفادار رہیں گے اور جماعت کو نہیں چھوڑیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 33 برس قبل جو لوگ جماعت کی تشکیل میں نواز شریف کے ساتھ تھے ان میں سے صرف وہی باقی بچے ہیں۔'باقی سب لوگ یا تو پارٹی چھوڑ گئے یا پھر دنیا چھوڑ گئے۔'

چوہدری نثار نے کہا کہ وہ تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مسلم لیگ ن کے ہر اجلاس میں شریک ہوتے رہے ہیں لیکن دو ماہ سے انھیں جماعت میں ہونے والے مشاورتی عمل سے دور رکھا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاناما لیکس کے معاملے پر 'فیصلہ چاہے حق میں آئے یا مخالفت میں، ہمیں اسے قبول کرنا ہو گا، چاہے اس پر کتنے ہی تحفظات ہوں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ ماہ سے وزیرِ اعظم نواز شریف سے نہیں ملے البتہ اگر فیصلے میں 'وزیراعظم سرخرو ہوئے تو انھیں وزیراعظم ہاوس جا کر مبارکباد دوں گا اور فیصلہ ان کے خلاف آیا تو ایک چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نواز شریف انتہائی شریف النفس انسان ہیں اور لوگ ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں: چوہدری نثار علی

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک شریف النفس انسان ہیں اور لوگ ان کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران چوہدری نثار نے یہ بپی کہا کہ پانامہ کے معاملے پر جو گالی گلوچ والی سیاست ہو رہی تھی اس پر کم از کم قیادت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'مجھ سمیت چند سویلینز اور جرنیلوں کے علم میں ہے کہ ملک کو اس وقت شدید خطرات لاحق ہیں اور پاکستان کو چاروں جانب سے گھیرے کی کوشش کی جا رہی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'ایسے حالات میں اگر فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا تو نواز شریف کو بہت تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور فیصلہ اگر حق میں آئے تو انھیں ہوا میں نہیں اڑنا چاہیے اور یہ نہ ہو کہ کسی کے کہنے پر اداروں کے ساتھ ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو۔'

چوہدری نثار کی اس پریس کانفرنس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار،وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق نے بھی ان سے ملاقات کی تھی اور انھیں پریس کانفرنس سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی رہی تاہم یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

اسی بارے میں