’ہیرا لال کے لیے گائے مقدس تو غلام حسن اس کا گوشت کیسے کھائے؟‘

شازیہ طفیل
Image caption پاکستانی پنجاب میں آج بھی بڑی تعداد میں ایسے خاندان موجود ہیں جہاں گائے کا گوشت نہیں کھایا جاتا

کچھ عرصہ پہلے چند بزرگوں کے ساتھ بیٹھے انڈیا میں گائے کے گوشت پر ہونے والے پرتشدد واقعات پر بات ہوئی تو اچانک ان میں سے ایک بزرگ نے کہا کہ اس رب کا لاکھ شکر کہ جس نے گائے بنائی۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطیٰ شہر حافظ آباد میں ہونے والی اس اس گفتگو کے دوران تھوڑی خاموشی کے بعد اداس آنکھوں کے ساتھ ماضی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے بزرگ غلام حسن نے کہا کہ ہمارے ہاں باپ دادا کے زمانے سے گائے پالی تو جاتی ہے لیکن کبھی اس کے گوشت کو گھر کی دہلیز کے اندر نہیں آنے دیا۔

انھوں نے کہا کہ 'آنے بھی کیوں دیتے۔۔۔ میرا جگری دوست ڈاکٹر ہیرا لال ہمسایہ تھا، غمی خوشی میں بڑھ کر شریک ہوتا تھا تو کس منہ سے اس گائے کا گوشت کھاتے جس کو وہ مقدس تصور کرتا تھا۔'

٭ امن کا مرکز’ اب خوف کی علامت`

٭ ’میاں، بیوی اور واہگہ‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وسطیٰ شہر حافظ آباد کے رہائشی غلام حسن انتقال کر چکے ہیں لیکن ان کی باتیں آج بھی تقسیم ہند سے پہلے علاقے میں پائی جانے والی مذہبی رواداری کے عکاسی کرتی تھی جس کو ستر برس گزرنے کے بعد آج بھی کئی خاندان زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

ان روایات کی تاریخ کے بارے میں تجسس ہوا تو پنجاب کی تاریخ و ثقافت پر متعدد کتابوں کے مصنف پروفیسر اسد سلیم شیخ سے رابطہ کیا اور اپنے سوالات ان کے سامنے رکھے۔

پروفیسر اسد سلیم شیخ نے بتایا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دو طبقات ہیں جن میں ایک طبقہ مقامی نہیں تھا جس میں عرب، ترکی، ایران اور افغانستان وغیرہ سے آنے والے مسلمان تھے اور ان تمام مسلمانوں کے رسم و رواج، تہذیب و تمدن وہ ہی تھے جو کہ اپنے علاقوں سے لائے تھے۔

'دوسرا طبقہ وہ تھا جو مقامی ہندوؤں سے تھا اور مذہب تبدیل کر مسلمان ہوا تھا۔ اس میں دوسرے علاقوں سے آنے والے مسلمان ہر طرح کا گوشت استعمال کرتے تھے لیکن دوسرا طبقہ گائے کا گوشت کھانے سے گریز کرتا رہا کیونکہ وہ ہندوؤں کے ساتھ صدیوں سے رہ رہے تھے اور ان کی تہذیب و تمدن ان کے اندر راسخ رہی اور مسلمان ہونے کے باوجود ان پہلوؤں کو چھوڑا نہیں۔'

لیکن کیا صرف یہ پہلو تھا جس کی وجہ سے بہت سارے مسلمان گھرانوں میں بکرے کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے لیکن گائے کے گوشت کو پسند نہیں کیا جاتا؟

اس پر پروفیسر اسد نے بتایا کہ 'برصغیر میں اکثر جگہوں پر ہندوؤں کے تناسب میں مسلمان اقلیت میں تھے جس کی وجہ سے یہ پہلو بھی تھا کہ کسی ایسی روایت کی پاسداری نہ کی جائے جس کی وجہ سے اکثریت کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے یا تصادم کا خطرہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ 'روادری بھی تھی جس کی وجہ سے بعد میں کسی علاقے میں اگر مسلمان اکثریت میں آ گئے تو انھوں نے گائے کے گوشت سے اجتناب ہی کیا اور اسی وجہ سے اکبر بادشاہ چونکہ سکیولر تھا تو اس نے مذہبی رواداری کو قائم رکھنے کے لیے گائے ذبح کرنے پر پابندی بھی لگائی۔'

Image caption شازیہ طفیل کے مطابق ان باپ دادا کے زمانے سے گھر میں گائے کا گوشت لانا منع ہے

پروفیسر اسد کے سیاق و سباق کی مثال یا وضاحت اس وقت ہوئی جب حافظ آباد کی تحصیل پنڈی بھٹیاں کے ایک گھر میں جانے کا اتفاق ہوا تو خاتون خانہ شازیہ طفیل نے کھانا دستر خواں پر رکھا تو پوچھا کہ آپ نے گائے کا گوشت کبھی پکایا ہے تو اس پر ان کا ردعمل ایسے تھا جیسے کوئی گستاخی کر دی ہو۔

شازیہ نے دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا 'نہ نہ ہمارے گھر کبھی گائے کا گوشت نہیں آیا۔ ہمارے بزرگوں سے روایت ہے کہ گائے کا گوشت کبھی گھر نہیں لایا گیا اور نہ ہی اسے پسند کیا جاتا ہے اور یہ روایت دہائیوں سے چلی آ رہی ہے اور کوشش ہے کہ اگلی نسلوں میں منتقل ہو۔'

اس علاقے میں شازیہ طفیل اسی واحد خاتون نہیں جن کے ہاں گائے کا گوشت استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ کئی ایسے خاندان ہیں جنھوں نے مذہبی روادری کی یادوں کو سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں