’آج بھی شیلا کا انتظار ہے کہ کبھی نہ کبھی پاکستان ملنے تو آئے گی‘

ممتاز بیگم

’جب تقسیم کا اعلان ہوا تو محلے کے سارے ہندو پناہ لینے کے لیے ہمارے گھر میں جمع ہو گئے۔ جب مسلمانوں کو پتہ چلا ان کا مشتعل ہجوم باہر اکٹھا ہو گیا کہ ان کو باہر نکالو۔ ‘

صوبہ پنجاب کے شہر حافظ آباد کے ایک قدیم مکان میں تقریباً 80 سالہ ممتاز بیگم نے تقسیم کے دور کو یاد کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ انھیں جس بات کا سب سے شدید صدمہ تھا وہ یہ تھی کہ ان اپنی بچپن کی ہندو سہیلیوں کی زندگیاں خطرے میں تھیں۔

ممتاز بیگم نے کچھ دیر خاموشی کے بعد سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بتایا کہ ہنگاموں کی خبریں مل رہی تھیں کہ ایک دن ان کے والد صاحب نے پریشانی میں آ کر بتایا کہ جلدی جلدی سب سامان باندھ لو کیونکہ لاہور کے انڈیا میں شامل ہونے کا ریڈیو پر اعلان ہوا ہے۔

اس پریشانی میں تھے کہ کیا کریں تو ایک دوسرا اعلان ہوا گیا کہ لاہور پاکستان میں ہی رہے گا تو تھوڑی ہی دیر میں ان کا حویلی نما گھر ہندوؤں سے بھر گیا جس میں عورتیں، بچے اور مرد سبھی تھے۔

'وہ لوگ ہمارے گھر میں جمع ہو گئے تو باہر مسلمانوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا اور میرے ابا سے کہا کہ سب کو باہر نکالیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور کچھ دیر میں محلے کے دیگر مسلمان بھی والد کی حمایت میں باہر جمع ہو گئے تو مشتعل ہجوم کو وہاں سے ہٹنا پڑا لیکن کچھ دو مکان چھوڑ کر ہندو خاندان کے ایک مکان کو آگ لگا دی۔'

ممتاز بیگم نے بتایا کہ' ان حالات میں ہندو برادری نے اپنے مکانوں کی چابیاں اور دیگر سامان وہاں موجود میرے دادا جی کے پاس رکھوا دیا، دو دن بڑی پریشانی اور خوف میں گزرے اور تیسرے دن گورکھا پولیس کے اہلکار شہر میں آ گئے اور ان لوگوں کو حفاظت میں شہر میں ہی قائم کیمپ میں منتقل کر دیا اور پھر وہاں سے انڈیا چلے گئے۔'

انھوں نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ' ہمارے گھر سے ان لوگوں کی روانگی کے وقت ماحول انتہائی افسردہ تھا اور سب ایک دوسرے سے آبدیدہ ہو کر گلے مل رہے تھے اور گھر سے نکلتے وقت عورتوں کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

ممتاز بیگم نے کہا کہ بعد میں ان میں سے کئی لوگ واپس بھی آئے اور اپنی امانتیں واپس لے کر چکے گئے اور کچھ چیزیں مال خانے میں جمع کرانی پڑیں لیکن میری سہلیوں کے خاندان سے کوئی نہیں آیا۔'

انھوں نے ایک الماری کھول کر اس میں پڑے دو تالوں میں سے ایک نکال کر دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ میری سہیلی شیلا اور سورنا کے گھر کا تالہ ہے جو میں نے ابھی تک سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔

ان کی سہلیوں کا گھر تو انڈیا سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمانوں کو سونپ دیا گیا لیکن ممتاز بیگم کی یادیں ان مکانوں پر لگنے والے تالوں کی صورت میں اب بھی پاس ہیں۔

متماز بیگم کے بقول جب ان کو دیکھی ہوں تو سہلیوں کی یاد آتی ہے اور سوچتی ہوں کہ اگر آج میں زندہ ہو تو سکتا ہے میری سہلیاں بھی زندہ ہوں اور کسی دن مجھے ملنے آ جائیں کیونکہ میں تو وہاں نہیں جا سکتی۔۔۔ مجھے تو یہ بھی معلوم ہو سکا کہ وہ کہاں جا کر آباد ہوئے ہیں۔'

ممتاز بیگم سے ملاقات میں جہاں ان کے چہرے پر ہجرت کے دوران ہنگامے اور افراتفری کی تلخ یادیں تھیں تو وہیں اس دور سے جڑے حسین لمحات کے احساسات کو محسوس کیا جا سکتا تھا اور سب ایسے تھا جیسےاچانک سخت گرمی اور حبس کے بعد بارش کا ہونا اور ٹھنڈیں ہوائیں۔

ممتاز بیگم نے اپنے آبائی مکان کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اسے 1945 کے قریب مکمل کیا گیا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جو وہ آٹھ دس برس کی تھیں۔

جب انھوں نے اس دور کی بات کی تو چہرے پر جہاں خوشی تھی وہیں آنکھوں میں شرارت کو محسوس کیا جا سکتا تھا اور اس کی وجہ ان کی وہ یادیں تھیں جن کے بارے میں انھوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے ہمسایوں میں زیادہ تر ہندو تھے اور ان کی قریبی سہلیاں شیلا، سورنا اور شکونترا تھیں جن سے وہ کھیلا کرتی تھیں۔

انھوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ ان کی سہلیوں نے گڑیا گڈے کی شادی کی اور مجھے اس میں دعوت نہیں دی تو اگلے دن جا کر میں نے گڑیا اور گڈے کو چھپا دیا اور پھر بڑی مشکل سے اسے واپس کیا۔

ممتاز بیگم جیسے ماضی کی قید میں جیسے بند ہو گئیں اور پھر اس دور کے قصے شروع ہوئے جس میں خاندان کی شادی پر ہمسایوں نے جیسے آگے بڑھ کر ہر ضرورت پوری کی اور کس طرح شرارتاً کسی برہمن کو ہاتھ لگاتیں تو اسے سردی میں تالاب پر جا نہانا پڑتا تھا۔

ممتاز بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ہے کہ میری سہیلی شیلا کے گھر میں خوبصورت گائے ہوا کرتی تھی اور اسے وہ خوب صاف ستھرا رکھتے تھے، تو میں بھی گھر جا کر اپنی گائے کو زیادہ سے زیادہ صاف اور خوبصورت رکھنے کی کوشش کرتی تھی، یہ ایسے ہی تھا جسے ہم دونوں سہیلوں کا اس میں کوئی مقابلہ چل رہا ہو۔

انھیں اچانک ہی ہاتھ میں پکڑا تالہ یاد آ گیا اور اس کے ساتھ پھر کہنا شروع کیا کہ'ان کے ساتھ بچپن کی محبت تھی، یاد تو ہر روز آتی ہیں کیوں نہیں آئیں گی۔

یہ کہتے ہوئے ممتاز بیگم نے الماری میں دوبارہ تالا رکھ کر اسے بند کر دیا لیکن شاید ان کے دماغ میں ان کی یادوں کا دریچہ ہمیشہ کھلا رہے گا۔