مریم نواز کے خلاف جعلسازی کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے: سپریم کورٹ

وکی پیڈیا پر 'کیلیبری' کا صفحہ تصویر کے کاپی رائٹ Wikipedia

پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لاجر بینچ نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف اپنے فیصلے میں ’کیلبری فونٹ‘ کا ایک مرتبہ پھر ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جعلسازی ہے اور اس کی بنیاد پر مریم نواز کے خلاف جعلسازی اور جعلی دستاویزات پیش کرنے کے الزامات میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ کیلبری فونٹ سنہ 2007 میں دستیاب نہیں تھا اور مریم نواز شریف کی ٹرسٹ ڈیڈ پر سنہ 2006 کی تاریخ درج تھی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک جعلی دستاویز ہے۔

* کیلیبری فونٹ کا صفحہ 18 جولائی تک ناقابل تدوین

* تمہارے خط میں نیا وہ فونٹ کس کا تھا؟

کیلبری فونٹ کا ذکر چند ہفتے قبل دنیا بھر کے بہت سے بڑے بڑے اخبارات میں اس وقت نظر آیا تھا جب جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کی تھی اور اس رپورٹ کی کاپیاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی دسترس میں بھی آ گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر بھی کیلبری فونٹ کا خوب ذکر کیا گیا۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو باہمی قانونی معاونت کے ذریعے فوزیکا فورنسکا کے اینٹی منی لانڈرنگ آفیسر سے حاصل کردہ دستاویزات کے مطابق مریم نواز ہی لندن کے ایونفیلڈ اپارٹمنس کی بینفیشل اونر یا مالک ہیں اور ان کو ان فلیٹس کی ٹرسٹی ظاہر کرنے والے دستاویزات جو شریف خاندان کی طرف سے پیش کیے گئے وہ جعلی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پاناما جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اگر سب سے زیادہ کچھ موضوعِ بحث رہا تو وہ بلاشبہ کیلیبری فونٹ تھا

مریم نواز کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی اس فیصلے میں شامل ہے۔

مریم نواز کے شوہر کپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی قومی اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

مریم نواز شریف کا نااہل ہونا اور ان کے خلاف جعلسازی اور جعلی دستاویزات کی بنیاد پر مقدمے چلانے کی سپریم کورٹ کی طرف سے بات نواز لیگ کے لیے نواز شریف کی نااہلی کے بعد ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ نہ صرف مریم نواز اگلے برس ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گی بلکہ نواز شریف کے چار بچوں میں سے تین بچے بھی اس دوڑ سے باہر ہو گئے ہیں۔

نواز شریف کی ایک صاحبزادی اسحاق ڈار کی بہو ہیں اور وہ کبھی سیاست میں نظر نہیں آئی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں