عدالت نے ثابت کیا کہ طاقتور کو بھی قانون کے ماتحت کیا جا سکتا ہے: عمران خان

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عمران خان نے اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

عمران خان اور شیخ رشید نے واضح کیا ہے کہ یہ ان کی ذاتی لڑائی نہیں تھی جبکہ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔

نواز شریف کی نااہلی: کب کیا ہوا؟

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

’گو نواز گو سے گون نواز گون‘

میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ آنے کے بعد اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ 2013 کے الیکشن سے شروع ہونے والی جدوجہد، دھرنے کے دنوں اور سپریم کورٹ میں ہونے والی کوششوں کے بعد آج رنگ لائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے ملک کے لیے اللہ کا شکر گزار ہوں۔ یہ ملک عدل انصاف کے لیے بنا تھا۔ مجھے آج خوشی ہے کہ ہمارے ملک کی علامہ اقبال کے خواب کی طرف جانے کے حوالے سے میری امید پوری ہوئی ہے۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ ان کی ’نواز شریف کے خاندان کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں۔'

عمران خان نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کے ممبران کا شکریہ ادا کیا۔

ان کا کہنا تپا ’تاریخ رہی ہے جو حکومت میں ہوتا ہے اس کے خلاف کوئی احتساب نہیں ہوتا لیکن جب وہ حزبِ اختلاف میں آتے تو ان کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور وہ جیلوں میں جاتے ہیں۔ طاقتور کو کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔'

عمران خان کا کہنا تھا جب تک اس ملک میں طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا اس ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

’آج سپریم کورٹ نے موجودہ وزیرِ اعظم کے خلاف فیصلہ دیا۔ عدالت نے ثابت کیا کے طاقتور کو بھی قانون کے تحت لایا جا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے عدالتی کارروائی سے آگاہ ہونے کے باوجود میں نواز شریف ان کا دفاع کرنے والے سیاستدانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’کیا آپ کو قوم کے بچوں، اپنے بچوں کے مستقبل کی کوئی پروا نہیں۔ قومیں بمباری، جنگوں اور آفتوں سے تباہ نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے انصاف کے اداروں کی تباہی کی وجہ سے تباہ ہوتی ہیں۔'

عمران خان کا کہنا تھا اگر حکومت یا سپریم کورٹ عزم کر لے تو چوری کیا گیا پیسہ بھی واپس آ سکتا ہے۔ ’ہم یہی پیسے ملکی وسائل کی بہتری پر لگا سکتے ہیں۔ آج بہت خوش آئند دن ہے۔ آج شروعات ہے آئندہ اور بھی بڑے بڑے چور پکڑے جائیں گے۔‘

انھوں نے اتوار کو پریڈ گراؤنڈ میں یوم تشکر منانے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ تمام لوگ جو 21 سال سے میرے ساتھ ہیں وہ تمام اتوار کو آئیں۔

پارلیمنٹ مدت پوری کرے‘

ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کو فائدہ ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی ہر ایک کے احتساب کی حمایت کرتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے اور وہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد وزیراعظم کا امیدوار لائیں گے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر پارٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو تمام فریقین کو دلی طور پر قبول کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ فیصلے سے یہ تاثر بھی زائل ہوا ہے کہ وزیراعظم کی نااہلیت سے جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کی حمایت کی اور اس کو جاری رکھیں گے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نے بدقمستی سے وقت پر رضاکارانہ طور پر مستعفی اور خود کو احتساب کے لیے پیش نہ کرکے پارلیمنٹ کی جانب سے بنائے گئے قوانین کی توہین کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

’آپ نے گاڑی مِس کر دی‘

پاناما کیس میں عمران خان کے ہمقدم رہنے والے پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے راولپنڈی میں اپنے کارکنوں سے خطاب میں کہا کہ وہ ہم نے دوستیاں اور دشمنیاں سیاسی بنیادوں پر نہیں کیں۔

انھوں نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا کیونکہ بقول ان کے جنھوں نے اس کیس کو صحیح رخ دیا۔

شیخ رشید نے زور دیتے ہوئے کہا نواز شریف کا کیس ختم ہوگیا۔ ہماری کسی سے لڑائی نہیں ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ 'مجھے تو لگتا تھا کہ نون لیگ کے کارکن بھی اندر سے خوش ہیں۔'

انھوں نے چوہدری نثار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا 'آپ کو اب استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں اب وہ آپ اپنے پاس رکھیں۔ آپ ٹرین مس کر چکے ہیں۔ آپ لیٹ ہو چکے ہیں۔ ‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں