سپریم کورٹ کے فیصلے کے اہم نکات

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں نواز شریف کو نااہل اور ان کے خاندان کے ارکان کے خلاف مقدمے درج کے احکامات جاری کیے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے چیدہ چیدہ نکات۔

  • قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ کے فیصلے کی تاریخ 28 جولائی 2017 سے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی، فیڈرل انویسٹی گشن اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد پر نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرے۔
  • نیب نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی میں شیخ سعید، موسیٰ غنی، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کرے۔ نیب ان افراد کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے اگر ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔
  • احتساب عدالت نیب کے جانب سے ریفرنس فائل کیے جانے کی تاریخ کے چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
  • اگر مدعا علیہان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات جھوٹی، جعلی اور من گھڑت ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
  • نواز شریف نے متحدہ عرب امارات میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنے اثاثوں کو 2013 میں اپنے کاعذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب پیپلز ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہذا وہ پیلز ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔
  • الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفکیشن جاری کرے۔
  • صدر مملکت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔
  • چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کے ایک جج کو اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے تعینات کیا جائے۔