وزیراعظم نااہل، شریف خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کرنے اور ان کے اہلخانہ کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے معاملے میں اپنے متفقہ فیصلے میں وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر 20 اپریل کے فیصلے کے تحت قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد 21 جولائی کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو جمعے کو سنایا گیا۔

نواز شریف کی نااہلی: کب کیا ہوا؟

نواز شریف اور عدالتیں

نواز شریف کا متبادل کون؟

سپریم کورٹ کے بینچ نے جس میں پاناما لیکس کے معاملے پر ابتدائی مقدمہ سننے والے پانچوں جج صاحبان شامل تھے آئین پاکستان کے آرٹیکل 184 کے تحت دائر درخواستوں پر اپنے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2013 میں دائر کیے گئے کاغذات نامزدگی میں ایف زیڈ ای نامی کمپنی میں اپنے اثاثے ظاہر نہ کر کے صادق اور امین نہیں رہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ صادق اور امین نہ رہنے کی وجہ سے الیکشن کمیشن فوری طور پر بطور پارلیمان سے ان کی رکنیت کے خاتمے کا نوٹیفیکشن جاری کرے۔

عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نواز شریف کی قومی اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نواز شریف کی لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120 سے رکنیت ختم کر دی گئی ہے اور یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ نے نیب کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ چھ ہفتے کے اندر نواز شریف اور ان کے بچوں مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی مہیا مواد کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرے اور چھ ماہ میں ان پر کارروائی مکمل کی جائے۔

عدالت نے نواز شریف اور حسن اور حسین نواز کے خلاف چار جبکہ مریم نواز، ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر اور وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر)صفدر کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے

عدالتی فیصلے کے چیدہ نکات درج ذیل ہیں:

  • قومی احتساب بیورو سپریم کورٹ فیصلے کی تاریخ اٹھائیس جولائی 2017 سے چھ ہفتے کے اندر جے آئی ٹی، فیڈرل انویسٹیگشن اور نیب کے پاس پہلے سے موجود مواد کی بنیاد نواز شریف، مریم نواز، حسین نواز، حسن نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف ریفرنس دائر کرئے۔
  • نیب نواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف عدالتی کارروائی میں شیخ سعید، موسی غنی، جاوید کیانی اور سعید احمد کو بھی شامل کرے۔ نیب ان افراد کے خلاف سپلیمنٹری ریفرنس بھی دائر کر سکتا ہے اگر ان کی دولت ان کے ذرائع آمدن سے مطابقت نہیں رکھتی۔
  • احتساب عدالت نیب کے جانب سے ریفرنس فائل کیے جانے کی تاریخ کے چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز کا فیصلہ کرے۔
  • اگر مدعا علیہان کی جانب سے عدالت میں دائر کی گئی دستاویزات جھوٹی، جعلی اور من گھڑت ثابت ہوں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
  • نواز شریف نے یو اے ای میں قائم کمپنی ایف زیڈ ای میں اپنےاثاثوں کو دو ہزار تیرہ میں اپنے کاعذات نامزدگی میں ظاہر نہ کر کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور وہ اب عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے سیکشن 99 کی روشنی میں ایماندار نہیں رہے لہذا وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کی سیکشن 99 اور آرٹیکل 62 (اے) کی روشی میں پارلیمنٹ کے ممبر کے طور نااہل ہیں۔
  • الیکشن کمیشن نواز شریف کی نااہلی کا فوری نوٹیفیکیشن جاری کرے۔
  • صدر مملکت ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنائیں۔
  • چیف جسٹس سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ سپریم کے ایک جج کو اس عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی نگرانی کے تعینات کیا جائے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان کے مطابق عدالتی فیصلے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے ہیں اور وفاقی کابینہ تحلیل ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعد رفیق کا کہنا تھا کہ صادق اور امین کی کہانی وہاں تک جانی چاہیے جہاں سے فیصلے ہوتے ہیں

پاکستان کے آئین کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی سبکدوشی کے بعد نئے وزیراعظم کی حلف برداری تک قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے وزارتِ عظمیٰ کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کا ردعمل

وزیرِ مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ 'آج بظاہر ہم ایک فیصلہ ضرور ہارے ہیں۔اگر پاکستان کے سیاسی جمہوری پس منظر میں دیکھا جائے تو آج کے فیصلے سے حیرانگی نہیں ہوئی افسوس ضرور ہوا ہے۔

ان کا کہنا تپا کہ وزیراعظم نواز شریف عوام سے ہمیشہ سرخرو ہوئے ہیں۔ ’تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیاست میں اور دوسرے طریقوں سے جب جب نواز شریف کو پاکستان کے سیاسی منظر سے ہٹایا گیا، تاریخ اور پاکستانی عوام پہلے سے زیادہ تعداد میں انھیں واپس پارلیمان میں لے کر آئی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’فیصلے کی تفصیلات دیکھیں گے اور آئینی و قانونی ماہرین سے مشورہ کر کے لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ عمران خان محض شو بوائے ہیں۔ 'ہمارے ساتھ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ خان صاحب بغلیں نہ بجائی چند دنوں میں آپ بغلیں جھانکیں گے۔ '

'صادق اور امین کی کہانی اب چلے گی۔ یہ صرف سیاستدانوں تک نہیں رہے گی بلکہ وہاں تک جانی چاہیے جہاں سے فیصلے ہوتے ہیں۔ '

سعد رفیق کا مزید کہنا تھا 'ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے ہمیں عوام سے رابطہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ' 'ہم اپنے کارکنوں کو کہتے ہیں کہ تحمل سے کام لیں۔ اداروں کا تقدس قائم رہے۔'

اسی بارے میں