اب کی بار رحمت کے دروازے کھلیں تو منی ٹریل تیار رکھیے گا

تصویر کے کاپی رائٹ PML(N)

سنہ دو ہزار ایک میں نواز شریف اپنے اہل خانہ سمیت جدہ کے سرور محل میں مقیم تھے۔ انہیں سعودی عرب کے شاہ فہد کی جانب سے حمایت اور مدد کے بعد، اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے معافی دیتے ہوئے، سعودی عرب جلاوطن ہونے کی اجازت دیدی تھی۔ جلاوطنی میں ایک پرتعیش زندگی ان کا انتظار کر رہی تھی۔

جب میں ان سے ایک انٹرویو کے لیے ملنے سرور محل پہنچا تو دل میں یہ خیال ضرور آیا تھا کہ ایسی جلاوطنی تو خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہوسکتی ہے۔

پاناما کے معاملے پر بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

نواز شریف کی نااہلی: کب کیا ہوا؟

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

میں نے ان سے کئی باتیں کیں لیکن جو چیز میں واقعی جاننا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ انہوں نے ایک فوجی آمر سے معافی کیوں لی اور ایک سیاسی رہنما کی طرح مصیبتیں برداشت کرکے، حالات کا مقابلہ کرنے کو ترجیح کیوں نہیں دی؟

میاں نواز شریف نے بڑی معصومیت اور صدق دل سے اس کا جواب دیا تھا۔ ’اندھیرے کے بادل چھائے ہوئے تھے، میں قید میں صعوبتیں برداشت کر رہا تھا، حالات بہت خراب تھے، ایسے میں والدہ نے آ کر بتایا کہ اللہ کی طرف سے یہ رحمت آئی ہے، سو میں نے فوراً اسے قبول کر لیا۔‘

میاں صاحب اپنی سیاسی زندگی میں ایسی بہت سی رحمتوں سے نوازے گئے ہیں۔ کبھی جنرل ضیاالحق کی جانب سے، کبھی عدالتوں کی طرف سے اور کبھی سعودیوں اور قطریوں کی جانب سے۔ لیکن اس مرتبہ رحمتوں کے اس مسلسل جاری سلسلے میں رخنہ ڈل گیا ہے۔

گو سوشل میڈیا پر میاں صاحب کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوشش ہوئی لیکن بدقسمتی سے عدالت کے جج صاحبان سوشل میڈیا پر سرگرم نہیں تو اس لیے وہ ساری جدوجہد انہیں چھوئے بغیر گزر گئی۔

بلاشبہ شریف خاندان کے خلاف جو کچھ گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے اس کا تعلق صرف ان کی مبینہ کرپشن اور ان کے اثاثوں کی منی ٹریل سے نہیں ہے۔

وہ جنرل ضیاالحق کی جانب سے کارخانے مفت میں واپس کیے جانے کے بعد سے، تواتر کے ساتھ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کی منازل طے کرتے گئے، لیکن کسی نے ان سے منی ٹریل نہیں پوچھی، ان پر پہلے بھی مقدمات کھلے، لیکن سب بند ہوگئے۔

پاناما پیپرز کے سامنے آنے سے پہلے بھی ان کی جائیدادوں سے سب واقف تھے لیکن کسی نے ان سے منی ٹریل نہیں مانگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان میں سول اور فوجی اشرافیہ کے لاتعداد چمکتے ستارے اپنی اوقات سے کہیں اونچی زندگیاں گزار رہے ہیں، ان میں سے بیشتر سے کبھی منی ٹریل نہیں مانگی گئی۔ تو پھر میاں نواز شریف سے کیوں؟

کیا یاد نہیں آپ کو کتنا منع کیا گیا تھا میاں صاحب کو کہ آرٹیکل چھ کو بھول جائیں۔ لیکن وہ ضد کرتے رہے۔ پھر مجبور ہو کر ضد چھوڑنی پڑی۔ انڈیا کے ساتھ پینگیں بڑھانے کا بہت شوق تھا میاں صاحب کو۔۔ چلی ان کی؟ بلاوجہ مصیبت کھڑی کردی۔

مسئلہ یہ ہے کہ سوال یہ بنتا نہیں کہ ان سے منی ٹریل کیوں مانگی گئی؟

سوال یہ ہے کہ اچھا کیا آپ نے نواز شریف سے تو پوچھ لیا لیکن باقیوں سے کب پوچھیں گے؟ کب بڑے سیاستدانوں، سابق رہنماؤں، فوجی جرنیلوں، ایئرکموڈوروں، ایڈمرلوں، حاضر سروس اور ریٹائرڈ سیکریٹریوں، پولیس اہلکاروں اور کاروباری ٹائیکونوں سے منی ٹریل مانگی جائے گی؟

سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو ہوگا کہ وہ دوسروں سے پوچھے؟ کیا ایسے ادارے ہونے چاہیئیں جو یہ کام سرکاری دباؤ کے بغیر غیر جانبداری سے کریں یا پھر جب ’اصلی تے وڈی سرکار‘ ناراض ہو جائے؟

میاں نواز شریف جب بھی حکومت میں آتے ہیں،ان کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ وہ بہت مضبوط ہیں اور ان کو کوئی ہٹا نہیں سکتا، لیکن ہر بار انھیں مایوسی ہی ہوتی ہے۔

ہر بار قسمت کے اس دھنی پر کہیں نہ کہیں سے رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں، مریم نواز کے ٹویٹ میں یہ پیغام پھر سامنے آیا ہے کہ میاں نواز شریف چوتھی مرتبہ بھی وزیراعظم بنیں گے اور زیادہ مضبوط وزیر اعظم بنیں گے۔

لیکن ان سے صرف دو گزارشات ہیں۔ ایک یہ کہ میاں صاحب قوم نے آپ کی منی ٹریل پوچھے جانے کو جمہوریت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے آپ کا بہت ساتھ دیا ہے، تو اگر آپ پر رحمت کا دروازہ کھلے تو ملک چھوڑ کر چلے مت جائیے گا بلکہ حالات کا سامنا کیجیے گا۔

دوسرا یہ کہ مہربانی کرکے جب چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بہیں تو منی ٹریل پہلے سے تیار رکھ لیجیے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں