نواز شریف ’صادق کیوں نہیں رہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدالت نے نواز شریف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف نیب کے قانون کے تحت کارروائئ کا حکم بھی دیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے اب پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف چار الزامات میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم تو دیا ہے لیکن انہیں نااہل قرار دیے جانے کی بنیاد کچھ ایسے پیسے ہیں جو انہوں نے کبھی وصول ہی نہیں کیے۔

عدالت نے جمعہ اٹھائیس جولائی کو اپنے متفقہ فیصلہ میں لکھا کہ 'میاں محمد نواز شریف عوامی نمائندگی کے قانون(روپا) کے سیکشن ننانوے ایف اور انیس سو تہتر کے آئین کی شق باسٹھ (ایک) (ف) کے تحت صادق نہیں اس لیے انہیں مجلس شوریٰ کی رکنیت سے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔'

آئین اور عدلیہ کے مطابق صادق اور امین کون؟

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

اور اس فیصلے کی وجہ بنی متحدہ عرب امارات کی کمپنی کیپیٹل ایف زی ای سے ان کے نام کی وہ تنخواہ جو انہوں نے کبھی وصول نہیں کی۔

عدالت کے سامنے سوال اٹھا گیا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کے چیرمین کی حیثیت سے وہ اس کمپنی سے تنخواہ کے حقدار تھے جس کا انہوں نے سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی میں ذکر نہیں کیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے کہا گیا کہ کیونکہ انہوں نے یہ تنخواہ وصول نہیں کی اس لیے عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت یہ ان کا اثاثہ نہیں تھی اور اس کا کاغدات نمائندگی میں ذکر کرنا ضروری نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ اسے اس بات پر فیصلہ کرنا تھا کہ کیا عوامی نمائندگی کے انیس سو چھہتر کے قانون کے تحت ایسی تنخواہ کا بھی کاغذات نامزدگی میں اثاثے کے طور پر ذکر ہونا ضروری ہے جو وصول نہ کی گئی ہو۔

اور کیا سن دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں اپنے کاغذات نامزدگی میں اس تنخواہ کا ذکر نہ کرنے کی بنیاد پر اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو پارلیمان سے نااہل کیا جا سکتا ہے۔

نواز شریف اور عدالتیں

عدالت نے کہا کہ انیس سو چھہتر کے عوامی نمائندگی کے قانون میں 'اثاثے' کی تعریف بیان نہیں کی گئی اس لیے اس مقدمے کے لیے اس اصطلاح کا عام فہم مفہوم استعمال کیا جائے گا۔ عدالت نے انگریزی زبان کی ڈکشنری 'بلیکس لاء ڈکشنری' اور 'بزنس ڈکشنری' کا سہارا لیا۔

عدالت نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تنخواہ اگر وصول نہ بھی کی جائے تو قابل وصول ضرور رہتی اور قانوناً اور عملاً ایک اثاثہ ہی بنتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس صورت میں کاغذات نامزدگی میں اس تنخواہ کا ذکر کیا جانا ضروری تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ جب اس نے مدعہ علیہ اول (میاں محمد نواز شریف) کے وکیل سے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے کبھی دبئی میں اقامہ حاصل کیا، کیا وہ کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے چیئرمین رہے اور کیا وہ تنخواہ کے حقدا تھے۔

عدالت نے فیصلہ میں لکھا کہ نواز شریف کے وکیل نے اپنے تحریر جواب میں بتایا کہ

'جہاں تک ان کے بورڈ کے سربراہ ہونے کا تعلق وہ ایک رسمی عہدہ تھا جو سن دو ہزار سات میں ملک بدری کے دوران انہوں نے حاصل کیا تھا اور ان کا کمپنی کے معاملات سے اور اس کو چلانے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ اسی طرح انہوں نے دس ہزار درہم کی تنخواہ بھی کبھی وصول نہیں کی۔ اس طرح وہ تنخواہ ان کے اثاثوں کے زمرے میں نہیں آتی۔'

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کاغذات نامزدگی اپنے اثاثوں کا ذکر نہ کرنا غلط بیانی ہے اور عوامی نمائندگی کے قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس لیے وہ 'صادق نہیں' ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں