نواز کا متبادل شہباز، شاہد خاقان عبوری وزیرِ اعظم

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شاہد خاقان عباسی کو عبوری دور کے وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا

حکمران جماعت مسلم لیگ نون نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کو متبادل وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شہباز شریف کے قومی اسمبلی کا ممبر منتخب ہونے تک خاقان عباسی عبوری وزیر اعظم ہوں گے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما اور مسلم نون کی حکومت کے اتحادی میر حاصل بزنجو نے تصدیق کی ہے کہ مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو عبوری دور کے لیے وزیرِ اعظم بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد میاں شہباز شریف کو وزیرِاعظم بنایا جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقریباً چار بجے ان کی ٹیلیفون پر میاں نواز شریف سے بات ہوئی ہے اور میاں صاحب نے بطور اتحادی جماعت انہیں اعتماد میں لیا ہے۔ یاد رہے کہ میر حاصل بزنجو میاں نوازشریف کی وزارتِ عظمٰی کے دور میں وفاقی وزیر برائے بندرگاہ و جہاز رانی تھے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف پاناما کیس کے متفقہ فیصلے میں نہ صرف وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا بلکہ نواز شریف سمیت ان کے خاندان کے افراد کے خلاف نیب میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

نواز شریف ’صادق‘ کیوں نہیں رہے؟

عدالت نے ثابت کیا کہ طاقتور کو بھی قانون کے ماتحت کیا جا سکتا ہے: عمران خان

مسلم لیگ نواز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ انھیں آئندہ انتخابات تک پارٹی کو لے کر جانا ہے اور اس مقصد کے لیے وہ ایسی متبادل قیادت چاہتے ہیں جو پارٹی کو اکٹھا رکھ سکے۔

اس موقع پر انھوں نے اپنے متبادل وزیراعظم کے طور پر اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کا نام پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا لیکن چونکہ شہباز شریف رکن قومی اسمبلی نہیں ہیں اس لیے پہلے اجلاس میں اس نام پر اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا کہ شہباز شریف کے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے تک وزیراعظم کسے بنایا جائے گا۔

پارٹی کو اکٹھا رکھا جائے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ذرائع کے مطابق جمعے کی شام مسلم لیگ نواز کے اجلاس میں جس موضوع پر سب سے زیادہ گفتگو ہوئی وہ مسلم لیگ نواز کو جماعت کے طور پر یکجا اور متحرک رکھنا تھا۔

اجلاس میں موجود بعض مسلم لیگی رہنماؤں کے مطابق نواز شریف اس بات پر بہت یکسوئی کے ساتھ گفتگو کرتے اور مشورے سنتے رہے کہ کس طرح پارٹی کو فعال رکھا جائے۔

اس حوالے سے ایک تجویز جسے سب سے زیادہ پذیرائی ملی وہ نواز شریف اور اہل خانہ کی فوری طور پر بذریعہ سڑک لاہور جانے کی تھی۔

اس تجویز کے پیچھے حکمت یہ بتائی گئی کہ اس طرح سے مسلم لیگ اس 'غیر منصفانہ' فیصلے کے خلاف عوامی احتجاج بھی کر سکے گی اور عوام کو بھی متحرک کیا جا سکے گا۔

یہ تجویز تو سکیورٹی اور بعض دیگر خدشات کے باعث مسترد کر دی گئی لیکن اس کے بعد بھی بہت سی تجاویز آئیں جن کا مرکز یہی نکتہ رہا کہ پارٹی کو اکٹھا رکھا جائے۔

مسلم لیگ کے معاملات کو قریب سے جاننے والے صحافی عارف نظامی کہتے ہیں کہ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی کے بعد نواز شریف کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ پارٹی کے معاملات کو کسی صورت ہاتھ سے نہ نکلنے دیں۔

'نواز شریف اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے پارٹی کو یکجا رکھنا ان کے مسقتبل کے لیے بہت ضروری ہے۔ وہ اس بات پر خاصے کلئیر ہیں کہ حکومت تو چلی گئی ہے لیکن پارٹی ہاتھ سے نہیں جانی چاہیے۔'

ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دوران شہباز شریف کی نامزدگی کے بارے میں بات چل رہی تھی تو چوہدری نثار اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انھوں نے جانے سے پہلے نواز شریف سے کمردرد کے باعث اجلاس سے جانے کے لیے اجازت تو لی لیکن ان کے درمیان سرد مہری بہت نمایاں طور پر محسوس کی گئی۔

اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا ہے کہ چوہدری نثار علی کے اجلاس سے جانے کے بعد اس کے ماحول میں تناؤ میں کمی محسوس کی گئی اور ایک موقع پر تو قہقہے بھی بکھر گئے جب نواز شریف نے جذباتی انداز میں تقریر کرنے والے ایک رہنما کو روکا جو نواز شریف کے مستقبل کے بارے میں بہت فکر مند دکھائی دے رہے تھے۔

نواز شریف نے ان کی تقریر میں مداخلت کرتے کہا کہ وہ ان کی فکر نہ کریں اور ساتھ ہی پنجابی زبان کی یہ ضرب المثل سنائی کہ 'کانسٹیبل سے نیچے کوئی رینک نہیں اور شاہ والی سے آگے کوئی تھانہ نہیں۔'

مطلب یہ کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے، اس سے زیادہ برا ہو نہیں سکتا۔

اسی بارے میں