’اسی الیکشن میں ناکوں چنے چبوا دیں گے‘

Image caption صوبہ پنجاب کے وزیر برائے خوراک بلال یٰسین مسلم لیگ ن کے حامیوں کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اکھٹے ہوئے

پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم کی نااہلی کے فیصلے پر پنجاب میں ان کی پارٹی کے گڑھ لاہور میں زیادہ شور پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنان کی جانب سے منائے جانے والے جشن کا سنائی دیتا رہا۔

شہر میں واقع پاکستان تحریکِ انصاف کے مختلف دفاتر اور دیگر چند مقامات پر ان کے کارکنان نے بھنگڑے ڈالے، مٹھائیاں تقسیم کیں اور جشن کا یہ سماں رات گئے تک جاری رہا۔

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

دوسری جانب حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنان اکا دکا ٹولیوں کی صورت میں اس فیصلے پر اپنی مایوسی اور نواز شریف سے اظہارِ یکجہتی کرتے نظر آئے تاہم کوئی بڑا احتجاج یا تحریک دیکھنے میں نہیں آئی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے خوراک اور پاکستان مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنما بلال یٰسین کا کہنا تھا کہ ان کی اعٰلی قیادت کی جانب سے انہیں ہدایات آ رہی تھیں کہ ان کی پارٹی کی جانب سے کسی قسم کا جارحانہ ردِ عمل ظاہر نہ کیا جائے۔

’اس کے باوجود آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے چاہنے والے ان کے ساتھ اپنی محبت کے اظہار کیلئیے سڑکوں پہ نکل آئے ہیں۔‘

بلال یٰسین نے اپنے حلقہ انتخاب لاہور کے علاقے موہنی روڈ پر واقع اپنے پارٹی دفتر سے مال روڈ تک پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنان کی ایک ریلی کی قیادت کی جو چند گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ایک قافلے پر مشتمل تھی۔

یاد رہے کہ ان کا صوبائی اسمبلی کا حلقہ انتخاب وہی علاقہ ہے جہاں سے قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 کے لیے میاں نواز شریف سنہ 2013 کے عام انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کو پارٹی کی طرف سے ردِ عمل ظاہر نہ کرنے کی ہدایات ہیں تاہم عدالتی فیصلے سے انہیں اور پاکستان مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت اور کارکنان کو سخت مایوسی ہوئی ہے۔

’ہماری مجبوری ہے، ہمیں اس فیصلے کو قبول کرنا ہے۔ ہماری لیڈرشپ کا حکم ہے، مگر ہمیں اس سے بے پناہ افسوس ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چالیس سال قبل بھی ایک عدالتی فیصلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ ’ہمیں اس وقت بھی ان سے اختلاف تھا اور شاید آج اگر وہ ہوتے تو بھی ان سے اختلاف ہوتا مگر سچ یہ ہے کہ غلط ہوا تھا۔‘

بلال یٰسین کا کہنا تھا کہ وہ ایک عدالتی قتل تھا اور آج بھی چالیس سال بعد میاں نواز شریف کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ ’اور اس سازش کے جو اثرات ہوں گے وہ ہم اور آپ شاید نہ بھی رہیں مگر آج سے چالیس سال بعد بھی یاد رکھیں گے لوگ۔‘

جمعہ کے روز جب دن بارہ بجے کے قریب سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں نواز شریف کو نا اہل قرار دیا، عین اسی وقت لاہور میں زرودار بارش کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے قریباٌ دو سے ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔

تاہم اس بارش میں بھی پاکستان مسلم لیگ ن کے جھنڈے اور میاں نواز شریف کی تصاویر کے پوسٹر اٹھائے چند مرد اور خواتین لاہور پریس کلب کے باہر بیٹھے احتجاج کرتے دکھائی دیے۔ نواز شریف کی پارٹی کے چند کارکنان نے گڑھی شاہو کے علاقے میں بھی ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جبکہ لبرٹی چوک پر بھی ان کی پارٹی کے چند افراد جمع ہوئے تاہم کوئی بڑا احتجاج منعقد نہیں کیا گیا۔

دوسری طرف بلال یٰسین کے دفتر میں کارکنان کی آمد کا سلسلہ سست روی کا شکار رہا۔ نمازِ جمعہ کے بعد اس میں تیزی آئی۔ مختلف یونین کونسلوں سے دس سے بارہ افراد پر مشتمل ٹولیوں کی صورت میں لوگ ان کے دفتر پہنچتے رہے، جہاں ان میں پارٹی کے بینرز اور جھنڈے تقسیم کیے گئے۔

بلال یٰسین چند گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل اس ریلی کے شرکا کو مال روڈ کی جانب روانہ کرنے کے بعد خود ایک گاڑی میں سوار ان کے ساتھ مال روڈ پہنچے جہاں ٹی وی کیمرے ان کے منتظر تھے۔

ان کے قافلے میں شامل افراد کی تعداد کم ہونے کی وجہ بلال یٰسین کے مطابق یہ تھی کہ ان کی قیادت کی جانب سے انہیں باہر نکلنے سے منع کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود لوگ اپنے جذبات کی وجہ سے باہر نکلے تھے۔

ان کا احتجاج کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور بلال یٰسین کا کہنا تھا کہ جو لوگ آئے یہ ان کے دوست احباب تھے ’جنہیں ہم نے کہا کہ ہمیں نکلنا چاہیے۔‘

کم از کم پاکستان مسلم لیگ ن کے گڑھ لاہور کی حد تک نواز شریف کی پارٹی کی جانب سے کوئی فوری جارحانہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

بلال یٰسین کا کہنا تھا کہ وہ اپنا آئندہ کا لائحہ عمل بھی پارٹی قیادت اور نواز شریف کے احکامات کے مطابق طے کریں گے۔ تاہم ان کہ کہنا تھا کہ ’جن لوگوں کا خیال ہے کہ این اے 120 میں جو انتخابات کا کھیل سجنے جا رہا ہے، ان کو ہم 2018 تو دور کی بات، اسی الیکشن میں ناکوں چنے چبوا دیں گے۔‘

اسی بارے میں