خدیجہ صدیقی پر قاتلانہ حملے کے مجرم کو سات سال قید

خدیجہ تصویر کے کاپی رائٹ Hum Sub TV
Image caption میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس مقدمے کے بارے میں مہم بھی چلائی گئی تھی

لاہور کی ایک عدالت نے اپنی ہم جماعت کو خنجر کے پے در پے وار کر کے شدید زخمی کرنے والے طالبعلم کو سات سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

یہ واقعہ گذشتہ برس مئی میں پیش آیا تھا جب ملزم شاہ حسین نے نجی لا کالج کی طالبہ خدیجہ پر ریس کورس کے علاقے میں سرعام اس وقت حملہ کیا تھا جب وہ اپنی چھوٹی بہن کو سکول سے لینے گئی تھیں۔

خدیجہ اپنی گاڑی میں بیٹھنے ہی والی تھی کہ ہیلمٹ پہنے شاہ حسین ان کی جانب بڑھے اور ان پر خنجر سے 23 مرتبہ وار کیے۔

پولیس نے ملزم شاہ حسین پر اقدام قتل کا مقدمہ تھانہ سول لائنز میں درج کیا تھا اور پولیس نے دورانِ تفتیش ملزم سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل اور چھری بھی برآمد کی تھی۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل کی تکمیل پر 27 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو سنیچر کو سنایا۔

کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے شاہ حسین کو سات سال قید کی سزا دینے اور انھیں احاطۃ عدالت سے فوراً گرفتار کرنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ 24 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو خدیجہ پر حملے کا مقدمہ ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ عدالت کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی حکم دیا تھا کہ وہ مقدمے کی ہفتہ وار رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائیں اور عدالت کو تمام پیش رفت سے آگاہ رکھیں۔

فیصلے کے بعد موقع پر موجود صحافیوں سے بات کرتے ہوئے خدیجہ کا کہنا تھا کہ خدا نے انھیں موت کے منہ سے نکالا ہے اور اس مقدمے کے دوران جن لوگوں نے ان کا ساتھ دیا وہ ان سب کی شکر گزار ہوں۔

خیال رہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس مقدمے کے بارے میں مہم بھی چلائی گئی تھی جس کے دوران سماجی کارکنوں نے لوگوں سے خدیجہ کا ساتھ دینے کی اپیل کی تھی۔

متعلقہ عنوانات