’میں اب ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف کو نیا وزیر اعظم بنانے کا اعلان کیا ہے

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کو صحیح ڈگر پر لانے اور ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسے وزیر اعظم جس نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا اور ملک کو معاشی ترقی کے راستے پر گامزن کیا اس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ اس کے مستحق نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں خوشی ہے کہ ان کی نااہلی کسی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ ’میرے ساتھیوں کو اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ آپ کے رہنما کا دامن صاف ہے۔ میں نے جلا وطنی کے دور میں ویزے کے لیے بیٹے کی کمپنی میں برائے نام عہدہ لیا تھا۔‘

* نواز کا متبادل شہباز، شاہد خاقان عبوری وزیرِ اعظم

* ’اس ملک میں حکمرانی کون کرے گا؟

* نواز شریف کے زوال کے اسباب

میاں نواز شریف کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے ہونے والے واقعات کے دوران بے تحاشا دھول اڑائی گئی جن میں چینلز میں شامل ہیں۔

’ میں نے استعفیٰ نہیں دیا تو نکال دیا گیا۔‘

’اس ملک میں ماضی میں بھی نہ اسمبلیوں نے مدت پوری کی نہ وزرائے اعظم نے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو کوئی حادثہ ہو سکتا ہے اور ہم کسی حادثے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

ملک کو صحیح ڈگر پہ لانے کے لیے میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔ ’جس طرح مورچے پر کھڑا فوجی ملک کا دفاع کرتا ہے اسی طرح میں پاکستان کا دفاع کر رہا ہوں۔ میں ہر قانون کی حفاظت کروں گا۔‘

انھوں نے اجلاس میں موجود رہنماؤں سے کہا کہ اس مقصد میں ان کی مدد کریں۔

انھوں نے کہا جو میری ساتھ ہوا اس کا مجھے کوئی دکھ نہیں۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ مجھے نکالا گیا تو مجھ پر کوئی کرپشن کا داغ نہیں۔‘

میاں نواز شریف نے جذباتی انداز میں کہا ’مجھے اقتدار کا لالچ نہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں پاکستان کو صحیح ڈگر پہ ڈالنے کے لیے اپنا کردار ادا کروں۔ آپ میرا ساتھ دیں۔‘

اس موقعے پر اجلاس میں شریک رہنماؤں نے باآواز بلند ان کے ساتھ ہونے کا یقین دلایا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے وزیر اعظم بننے کا کوئی لالچ نہیں۔ میں تو 2013 میں بھی وزیرِ اعظم بننے کے لیے بہت مشکل سے راضی ہوا تھا۔ شہباز شریف اور اسحاق ڈار اس کے گواہ ہیں۔

اجلاس کے دوران ’وزیرِ اعظم نواز شریف‘ کے نعرے لگتے رہے۔

انھوں نے اجلاس کو بتایا کہ اب وہ چونکہ وزیر اعظم نہیں رہے تو وہ نئے وزیر اعظم کے لیے شہباز شریف کا نام تجویز کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کو قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے لیے پچاس پچپن دن لگ سکتے ہیں اور اس عبوری دور کے لیے شاہد خاقان عباسی کا نام تجویز کرتے ہیں۔

پارلیمانی کمیٹی کی ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پارٹی کے اراکان نے تالیاں بجا کر نواز شریف کی تجاویز کی حمایت کی۔

اسی بارے میں