شاہد خاقان عباسی دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کے مالک

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان مسلم لیگ ن کی جانب سے نواز شریف کی جگہ وزارت عظمیٰ کے لیے شاہد خاقان عباسی اور شہباز شریف کا چناؤ ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت فی الحال تصادم کے موڈ میں نہیں ہے۔

شہباز شریف کے بارے میں تو یہ بات اب عام ہو چکی ہے کہ وہ مختلف مواقع پر نواز شریف کو فوج کے ساتھ تصادم سے پرہیز کا مشورہ دیتے رہے ہیں چاہے وہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو ملازمت سے برطرف کرنے کا معاملہ ہو یا ان کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں کارروائی کا۔

نواز کا متبادل شہباز، شاہد خاقان عبوری وزیرِ اعظم نامزد

نواز شریف کا متبادل کون؟

نواز شریف کس نکتے پر نااہل ہوئے؟

’میں اب ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہوں‘

وزارت عظمیٰ کے دوسرے امیدوار شاہد خاقان عباسی، جو کہ شہباز شریف کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے تک وزارت عظمیٰ کے عہدے پر تعینات رہیں گے، وہ بھی اپنے دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کی وجہ سے وفاقی کابینہ کے ان گنے چنے ارکان میں شامل رہے ہیں جو ہمیشہ تحمل اور غیر جذباتیت کے داعی رہے ہیں۔

صوبہ پنجاب کے مشہور سیاحتی مقام مری سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی کے والد خاقان عباسی ضیا الحق کے قریبی ساتھیوں میں تھے۔

1988 میں اپنے والد کی راولپنڈی اوجڑی کیمپ حادثے میں ہلاکت کے بعدشاہد خاقان عباسی پارلیمانی سیاست میں داخل ہوئے اور اسی سال ہونے والے قومی اسمبلی کے انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد سے وہ چھ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ انہیں صرف 2002 کے انتخاب میں شکست کا سامنا ہوا۔

نوازشریف کے دوسرے دور حکومت میں وہ قومی ہوائی کمپنی پی آئی اے کے چیئرمین بنے اور 12 اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے موقع پر فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کا طیارہ اغوا کرنے کی کوشش کے جرم میں نواز شریف کے ساتھ گرفتار ہوئے۔

نواز شریف پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اہل خانہ کے ہمراہ سعودی عرب روانہ ہوئے لیکن شاہد خاقان عباسی کو جیل ہی میں چھوڑ گئے۔

قریباً دو برس جیل میں گزارنے کے بعد جب وہ رہا ہوئے تو انھوں نے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر اپنے حلقے سے الیکشن تو لڑا لیکن ان کے حلقے کے لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ الیکشن بے دلی سے لڑا اس لیے ہارے۔

اس کے بعد کچھ سال کے لیے ان کی ساری توجہ کا مرکز نجی فضائی کمپنی ائیر بلیو رہی جس کے وہ بانی سربراہ ہیں۔ اس دوران وہ عملی سیاست سے ذرا فاصلے پر رہے۔ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے اس وقت کی حکمران جماعت کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے قریبی مراسم رہے جن سے انہوں نے اپنی ایئر لائن کے لیے فائدے بھی لیے۔

لیکن جب نواز شریف ملک اور عملی سیاست میں واپس آئے تو شاہد خاقان عباسی ایک بار پھر ان کے ساتھ کھڑے تھے۔

اس وقت شاہد خاقان عباسی کا شمار ان مسلم لیگی رہنماؤں میں ہوتا تھا جن کے فوج سے روابط تھے۔ ان روابط اور رشتہ داریوں کو انہوں نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کیا اس کے کوئی شواہد نہیں ملتے لیکن انہوں نے بعض جنرلز کے نام کسی حد تک استعمال ضرور کیے۔

شاہد خاقان عباسی رکن قومی اسمبلی اور ان کی بہن سعدیہ عباسی ایڈووکیٹ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر سینیٹر بنیں لیکن اپنی مدت ختم ہونے کے بعد جب انہیں سینیٹ کے لیے دوبارہ ٹکٹ نہیں ملا تو وہ مسلم لیگ سے تلخی کے بعد علیحدہ ہو گئیں۔

نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد شاہد خاقان کو اہم وزارت پٹرولیم اور قدرتی وسائل سونپی۔

انہیں خواجہ آصف، شہباز شریف اور اسحٰق ڈار کے ساتھ ملک کر ملک سے توانائی کا بحران ختم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی یوں وہ گذشتہ چند سالوں سے نواز اور شہباز شریف کے بہت قریب رہنے والے وزرا میں شامل رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ صرف توانائی کے معاملات ہی نہیں بلکہ سیاسی مشاورت میں بھی ہمیشہ شامل رہے اور بعض مسلم لیگی ذرائع کے مطابق بیشتر مواقع پر ان کی اور شہباز شریف کی رائے میں خاصی مماثلت پائی جاتی تھی، یعنی دونوں ہی تصادم کے بجائے مفاہمت کی بات کرتے دکھائی دیتے۔

شاہد خاقان عباسی کی ایک خوبی بہت حد تک غیر متنازع ہونا بھی ہے۔ وہ پاکستان میں سب سے زیادہ 'نفع بخش' سمجھی جانے والی وزارت کے سربراہ رہے ہیں اس کے باوجود کسی بڑے سیاسی یا مالیاتی تنازعے کی زد میں نہیں آئے۔

وہ اپنے ساتھی ارکان اسمبلی میں بھی اچھی شہرت رکھتے ہیں اور صلح جو مزاج کے باعث مقبول بھی ہیں۔ حال ہی میں جب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیراعظم سے ناراضی کا اظہار کیا تو جن لوگوں کو انہیں منانے کی ذمہ داری سونپی گئی ان میں شاہد خاقان عباسی بھی شامل تھے۔

اسی بارے میں