کوئی میرا نام استعمال نہ کرے: جناح

ڈان یکم اگست 1947 تصویر کے کاپی رائٹ British library
Image caption ڈان یکم اگست 1947

ڈان: یکم اگست 1947

(آج سے پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والےخبروں کا خلاصہ یہاں پڑھ سکیں گے)

سندھ لیگ کی قیادت: جناح کی تردید۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption جناح کی تردید

خبر کے مطابق محمد علی جناح نے ایک بیان میں کہا کہ 'میں واضح کر چکا ہوں کہ اپنا لیڈر منتخب کرنا اسمبلی میں پارٹی کی ذمہ داری ہے۔ میں حال ہی میں پنجاب اور بنگال کے معاملے میں بھی یہ واضح کر چکا ہوں اور مجھے افسوس ہے کہ میرا نام اس طرح استعمال کیا گیا یا کوئی آئندہ کرے۔'

محمد علی جناح نے ایک بیان میں اس بات کی تردید کی کہ سندھ اسمبلی میں مسلم لیگ کے لیڈر کےانتحاب میں ان کا کوئی پسندید امیدوار ہے۔ خبر کے مطابق سندھ کے ایک وزیر پیرزادہ عبدالستار نے انہیں بتایا تھا کہ انتخاب میں ان کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں لکھا کہ 'میرا ہر اس صوبے کو مشورہ ہے جس کی اسمبلی میں مسلم لیگ کا وجود ہے کہ وہ اپنا لیڈر آزادادنہ طور پر، خومختاری اور انصاف کے ساتھ منتخب کریں'۔

محمد علی جناح نے کہا کہ سندھ اسمبلی مسلم لیگ پارٹی 'اپنا لیڈر اور دیگر عہدیدار منتخب کرنے میں مکمل طور پر آزاد ہے جنہیں وہ بہتر سمجھتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption پاکستان کا جھنڈا اور اقلیتوں کی امیدیں

ہندوستان ٹائمز

٭پاکستان کا جھنڈا کیسا ہوگا، کیا اس میں غیر مسلموں کی نمائندگی ہوگی؟ غیر مسلم امید کر رہے ہیں کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی ایسا جھنڈا اپنائے گی جس کی ملک کا ہر طبقہ عزت کرے گا، جھنڈا ایسا ہونا چاہیے جسے اقلیتیں بھی اپنا جھنڈا تصور کر سکیں۔

٭اطلاعات کے مطابق بار بار زور دیا جا رہا ہے کہ انڈیا کے ترنگے میں کیسری رنگ جرات اور قربانی، سفید شفافیت اور سبز رنگ ایمان اور طاقت کی علامت ہے، تاہم عام لوگ یہی سمجھ رہے ہیں کہ کیسری رنگ ہندوؤں، سفید امن اور سبز رنگ مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

٭متعدد سکھوں کی طرف سے پاکستانی اکالی پارٹی بنانے کا فیصلہ۔ اگر پاکستان کی آئین ساز اسمبلی آئین میں ان کے وجود کو تسلیم کرتی ہے تو انہیں اس نئے ملک کا شہری بننا قبول کر لینا چاہیے۔

٭لاہور سے لوگوں کا انخلا جاری۔ یہ انڈیا کا غالباً واحد شہر ہے جس کی اہمیت تقسیم کی وجہ سے کم ہو جائیگی اور وہ پرانی شان و شوکت دوبارہ کبھی حاصل نہیں کر سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ British library
Image caption لاہور سے شائع ہونےوالا اخبار ایسٹرن ٹائمز

اِیسٹرن ٹائمز

٭پاکستان براڈکاسٹنگ سروس 14 اگست سے کام شروع کر دے گی لیکن لاہور سے اردو میں خبروں کی نشریات 10 اگست سے شروع ہو جائیں گی۔

٭کراچی ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی کی طرف سے آل انڈیا کانگریس سے علیحدگی کی تیاریاں جو ان کے بقول 15 اگست سے ایک دوسرے ملک کی سیاسی جماعت بن جائے گی۔

اسی بارے میں