قومی وطن پارٹی خیبر پختونخوا حکومت سے مستعفی

آفتاب شیرپاؤ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی سیاسی جماعت قومی وطن پارٹی نے حکمران جماعت تحریک انصاف سے اتحاد کے خاتمے کے بعد اس کے دو وزراء اور دو معاونین خصوصی نے صوبائی کابینہ سے استعفی دے دیا ہے۔

یہ اعلان قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے اتوار کو پشاور میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ میں شامل ان کی جماعت کے چار اراکین نے اپنے عہدوں سے مستعفی ہو گئے ہیں۔

استعفے دینے والوں میں صوبائی وزیر برائے آبپاشی اور سوشل ویلفئیر سکندر خان شیرپاؤ، صوبائی وزیر برائے لیبر اور معدنیات انیسہ زیب طاہرخیلی اور وزیراعلی کے دو معاونین خصوصی ارشد خان عمرزئی اور عبد الکریم خان تورڈھیر شامل ہیں۔

یاد رہے کہ سنیچر کو تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت میں شامل قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اس بات کا باضابط اعلان صوبائی وزراء شاہ فرمان اور علی امین گنڈاپور نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ اتحاد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے کہنے پر ختم کیا گیا ہے۔

صوبائی وزراء کا موقف تھا کہ قومی وطن پارٹی نے پانامہ کے معاملے پر ان کا ساتھ نہیں دیا جبکہ ان کا منشور بھی ان کی جماعت سے مطابقت نہیں رکھتا لہٰذا دونوں جماعتوں کا چلنا اب ناممکن ہو گیا ہے۔

آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے پریس کانفرنس کے دوران وضاحت کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ تحریک انصاف کو ان کی جماعت سے گلہ تھا کہ انہوں نے پاناما کے معاملے پر ان کی جماعت کا ساتھ نہیں دیا۔

ان کے مطابق 'ہم صوبائی حکومت کا حصہ ضرور تھے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ ہم ہر ایشو پر تحریک انصاف کا ساتھ دیں گے، ہر جماعت کا الگ منشور ہوتا ہے اور پاناما کے معاملے پر ہمارا اپنا ایک اصولی موقف تھا۔'

آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ اتحاد قائم ہوتے وقت دونوں جماعتوں کا آپس میں ایک تحریری معاہدہ ہوا تھا جس میں یہ لکھا گیا ہے کہ کسی غلط فہمی یا مشکل کی صورت میں دونوں جماعتوں کے نمائندوں آپس میں مل بیٹھ کر افہام تفہیم سے مسائل کا حل نکالیں گے لیکن ایسا نہیں کیا گیا بلکہ ان کو اتحاد کے خاتمے کا ذرائع ابلاغ سے معلوم ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ومی وطن پارٹی کو حکومت سے علیحدہ کرنے کے بعد اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمبر گیم پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے

خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے گزشتہ چار سالوں کے دوران دو مرتبہ اتحادی جماعت قومی وطن پارٹی سے اتحاد ختم کیا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ اتحاد نومبر 2013 میں اس ختم کیا گیا جب پی ٹی آئی کی طرف سے اتحادی جماعت کے وزراء پر بدعنوانیوں کے الزامات لگائے گئے تاہم بعد میں ان وزراء کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

اس دوران اسلام آباد میں تحریک انصاف کی طرف سے لمبا دھرنا دیا گیا جس میں عمران خان کی جانب سے آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ان کے وزراء کے خلاف سخت زبان استعمال کی گئی۔تاہم اکتوبر 2015 میں قومی وطن پارٹی غیر متوقع طور پر دوبارہ صوبائی حکومت میں شامل ہوئی اور اس مرتبہ دونوں جماعتوں کے مابین تمام معاملات تحریری معاہدے کی صورت میں طے پائے۔

بعض حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے مابین حالیہ اختلافات وزارتوں میں بھرتیوں پر پیدا ہوئے۔

ُادھر قومی وطن پارٹی کو حکومت سے علیحدہ کرنے کے بعد اب خیبر پختونخوا اسمبلی میں نمبر گیم پھر اہمیت اختیار کر گئی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کل124 ممبران پر مشتمل ہے جن میں ایک نشست پر ضمنی انتخاب نہ ہونے کی وجہ سے یہ تعداد 123 رہ گئی ہے۔

ان میں حکمران اتحاد کی تعداد قومی وطن پارٹی کے جانے کے بعد 68 رہ گئی ہے جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد 54 تک پہنچ گئی ہے۔ حکمران تحریک انصاف کو اب حکومت چلانے کے لیے جماعت اسلامی کو اپنے ساتھ رکھنا ناگزیر ہو گیا ہے کیونکہ ان کی جانے کی صورت میں پی ٹی آئی کو ایوان میں عددی اکثریت برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہے۔

اسی بارے میں