غیر ملکی فنڈنگ پر ہر سیاسی جماعت کو حساب دینا ہوگا: چیف جسٹس ثاقب نثار

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ممنوعہ ذرائع سے پارٹی فنڈنگ کیس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے ہر سیاسی جماعت کو حساب دینا ہوگا۔

چیف جسٹس نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ میں حکمراں جماعت کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کی ممنوعہ ذرائعے سے حاصل کی گئی فنڈنگ سے متعلق دائر کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔

اس درخواست کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اگر امریکہ میں اُن کے ایجنٹ نے ممنوع ذرائع سے فنڈز جمع کیے ہیں تو عمران خان اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

٭ فیصلو ہو تو جہان خان جیسا ورنہ نہ ہو!

نئے پاکستان کی بنیاد سپریم کورٹ نےرکھ دی ہے: عمران خان

اُنھوں نے کہا کہ ایجنٹ کے طرف سے جمع کیے گئے فنڈز کے بارے میں عمران خان کو معلومات نہیں ہیں۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس درخواست کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے وکیل انور منصور نے کہا کہ پارٹی کے سربراہ نے اپنے ایجنٹ کو واضح ہدایات دی تھیں کہ کہیں سے بھی ایسے فنڈز اکھٹے نہ کیے جائیں جو کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہوں۔

نامہ نگار کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ تحقیقات کا متقاضی ہے۔

اس پر پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ عدالت کے پاس آئین کے آرٹیکل 184 کے سب سیکشن تین کے تحت کمیشن بنانے کا اختیار ہے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب الیکشن کمیشن موجود ہے تو پھر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انور منصور نے سوال اُٹھایا کہ الیکشن کمیشن کے پاس تحقیقات کا اختیار نہیں ہے جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اگر ممنوع فنڈنگ کا معاملہ آئے تو وہ اس کی تحقیقات کرسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ اگر ممنوع فنڈنگ کے بارے میں کچھ شکوک و شبہات ہوں تو الیکشن کمیشن کسی بھی سیاسی جماعت کو اس کا انتخابی نشان جاری کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپنی آڈٹ رپورٹ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی ہے لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انور منصور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر آڈیٹر ممنوع فنڈز کے بارے میں کوئی غلط بیانی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے جس پر بینچ کے سربراہ نے پی ٹی آئی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آڈیٹر کے خلاف تو کارروائی ہوسکتی ہے لیکن اس ٹرانزیکشن کو نہیں کھولا جاسکتا جو بادی النظر میں ممنوع ذرائع سے آئی ہو۔

درخواست گزار کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے غیر ملکی فنڈنگ کے بارے میں جو دستاویزات عدالت میں جمع کروائی ہیں وہ جعلی اور خود ساختہ ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ممنوع فنڈز کو ظاہر نہیں کر رہی اور ان کو نکال کر انتہائی کم فنڈز دکھائے جارہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا غیر ملکی فنڈنگ سے عمران خان مستفید ہو رہے ہیں تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ممنوع فنڈنگ کے بارے میں جواب دہ نہیں ہیں۔

حنیف عباسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جو دستاویزات جمع کروائی گئی ہیں اس میں بیرون ملک اور بالخصوص امریکہ میں اُن غیر ملکیوں اور کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے جنھوں نے پاکستان تحریک انصاف کو لاکھوں روپے فنڈز دیے تھے۔

عدالت نے اس درخواست کی سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں