’نواز شریف میرے دس لاکھ بیس ہزار روپے کے مقروض ہیں‘

سیاسی جلسوں کی کامیابی کے لیے لگتا ہے کہ دو چار منفرد اور دلچسپ کردار پنڈال میں آج کل بکھیر دیے جاتے ہیں۔ وہ جہاں میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے رہتے ہیں وہیں کئی گھنٹے پہلے آنے والے کارکنوں کو بھی مصروف رکھتے ہیں۔

ایسے ہی ایک شخص سے اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں تحریک انصاف کے جلسے کے دوران ملاقات ہوئی۔

سفید ریش اور زندگی کے 69 سالہ اتار چڑھاؤ حاجی بشیر احمد بھٹو کے چہرے سے عیاں ہیں۔ تحریک انصاف کی ٹوپی اور گلے میں پرچم جبکہ لباس بھی پی ٹی آئی کے رنگوں کا حامل، یہ شخص شریف مخالف گانوں پر رقص میں محو تھا۔

٭ فیصلو ہو تو جہان خان جیسا ورنہ نہ ہو!

٭ ’غیر ملکی فنڈنگ پر ہر سیاسی جماعت کو حساب دینا ہوگا‘

حاجی بشیر کا کہنا ہے کہ انھوں نے بھٹو کی سیاست، شریفوں کے کاروبار اور عمران کی امید افزا مستبقل کی نوید، سب کے مزے چکھے ہیں۔

انھیں دیکھ کر امید بندھی کہ چلو پاکستان میں سیاست جتنی بھی گندی ہو، حاجی بشیر جیسے لوگ ابھی سیاسی جماعتوں سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یہ ان لوگوں کے منہ پر ایک طماچہ ہے جو شاید پاکستان میں سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں کہ لوگ ابھی اتنے متنفر نہیں ہوئے ہیں، ابھی بھی امید ہے۔

اپنی سیاسی تاریخ کے اتار چڑھاؤ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ سنہ 1970 سے2002 تک پیپلز پارٹی کے ’نامی گرامی‘ جیالے تھے۔ ان 32 سالوں میں پیپلز پارٹی کی خاطر انھوں نے اور ان کی چھ ماہ کے بچے کے ساتھ اہلیہ نے جیلیں کاٹیں، بے نظیر بھٹو جب دوبارہ اقتدار میں آئیں تو انہیں حج اکبر کے لیے بھیجا اور نوکری بھی دلوائی۔

پیپلز پارٹی کو خیرباد کہنے کی وجہ پوچھی تو ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے سربراہ آصف علی زرداری نے جماعت کا وہ حشر کیا ہے جو جنرل ضیاء الحق نے اپنے 11 سالہ دور اقتدار میں بھی نہیں کیا تھا۔

حاجی بشیر کا الزام تھا کہ زرداری نے مخلص، بے لوث اور جان نثار کارکنوں کو ’کھڈے لائن‘ لگا دیا اور ’نمائشی‘ لوگوں کے ساتھ مل کر ’رج کر کرپشن‘ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی اب پنجاب میں کبھی نہیں آسکتی ہے۔‘ وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے آج تک تحریک انصاف کے تمام جلسوں میں شرکت کی ہے۔

پیپلز پارٹی تو ابھی بھی سندھ میں اقتدار میں ہے اور لوگوں کی حمایت حاصل ہے، تو حاجی بشیر کا کہنا تھا کہ وہاں حمایت اس لیے باقی ہے کہ لوگوں کو ذوالفقار علی بھٹو سے محبت ہے۔ ’یہ عقیدت بھٹو سے ہے زرداری سے نہیں۔‘

حاجی بشیر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف میں آنے سے قبل انھوں نے شریف خاندان کی اتفاق فاؤنڈری میں ملازمت بھی کی۔ ’نواز شریف آج تک میر دس لاکھ بیس ہزار روپے کے مقروض ہیں۔‘ لیکن انھوں نے نہیں بتایا کہ یہ قرض کیسے چڑھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ان کے مطابق انھوں نے تحریک انصاف کا رخ عمران خان کی باتیں سن کر کیا۔

’میری طرح 75 فیصد پی پی پی کے جیالے تحریک انصاف میں آچکے ہیں۔ عمران خان جو بھی باتیں کر رہے ہیں وہ سچی ہیں۔‘

تحریک انصاف کے جلسوں میں جس اہتمام کے ساتھ کان پھاڑ دینے والے سپیکروں کا انتظام کیا جاتا ہے شاید ہی کسی اور چیز کا کیا جاتا ہو۔

ایسے میں کسی سے بات کرنا بھی محال ہوتا ہے، لہذا حاجی بشیر صاحب سے اس سے زیادہ بات نہیں ہوسکی۔ ناجانے اس عمر میں انھوں نے بعد میں مزید کتنا رقص کیا ہوگا؟

اسی بارے میں