’اگر مدمقابل عمران خان خود آتے تو مزہ آتا‘

Image caption شہباز شریف کی جگہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے ان کے بیٹے حمزہ شہباز کا نام بھی خبروں میں ہے

میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنانے کی کوشش سے خلا تو پر کیا جا رہا ہے لیکن ان کی جگہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی تلاش حکمران جماعت کے لیے ایک اہم مرحلہ ہے۔

حکمران جماعت ایک ایسے وزیراعلیٰ کی تلاش میں ہے جس پر جماعت اور پنجاب میں ان کے تمام ارکان متفق ہوں۔

نواز شریف کی نا اہلی کے بعد اسلام آباد میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ نون لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار شیخ رشید کے کاغذات کے علاوہ بعض دیگر امیدواروں نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔

نواز شریف کے زوال کے اسباب

پاناما کیس میں عدالت کو کیا خدشہ تھا؟

دوسری جانب قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب ملکی سیاست میں ایک اہم مرحلہ تصور کیا جا رہا ہے۔

حکمران جماعت کو اس حلقے میں تحریک انصاف کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ ’خادم اعلیٰ‘ کا متبادل تلاش کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔

Image caption لاہور اور پنجاب کو مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا ہے

لاہور اور پنجاب کو مسلم لیگ نون کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور شہباز شریف کئی برس سے اس صوبے میں پارٹی کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اس حلقے کے لوگ، جہاں سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا ہے سوال اٹھاتے ہیں کہ ان کی اسلام آْباد منتقلی کہیں پارٹی کے لیے نقصان دہ تو نہیں ہو گی؟

حلقہ این اے 120 میں نواز شریف کے حامیوں سے جب آنے والے ضمنی الیکشن کے بارے میں پوچھا گیا تو ایک مقامی رہائشی طارق کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتا ہوں شہباز شریف کے وفاق میں آنے سے نون لیگ مزید مضبوط ہو گی اور پاکستان کی ترقی کی لیے بھی یہ ضروری ہے۔ این اے 120 مسلم لیگ کا گڑھ ہے اور یہاں سے تو شہباز شریف ہی جیتیں گے۔‘

’نواز شریف میرے مقروض ہیں‘

’غیر ملکی فنڈنگ پر ہر سیاسی جماعت کو حساب دینا ہوگا‘

دکاندار ندیم کا کہنا تھا کہ ’میاں شہباز شریف اگر وزیر اعظم بن جاتے ہیں تو اس کا پنجاب کی ایڈمینسٹریشن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ان کی جگہ پر اگر میاں حمزہ شہباز آجاتے ہیں تو وہ بہترین ایڈمینسٹریٹر ہیں اور بہترین نظام چلے گا۔‘

دوسری جانب علاقے کے بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اگر وزیر اعظم بن جائیں گے تو اس سے مسلم لیگ نون صوبے میں کمزور ہو جائے گی۔

Image caption حلقے کے پرانے ووٹر اب بھی نواز شریف کے لیے ہمدردی کا جزبہ رکھتے ہیں

عمیر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’میری نظر میں پارٹی پر ہولڈ صرف نواز شریف کا ہے، شہباز شریف کا نہیں۔ وزیر اعلیٰ اگر صوبے کو چھوڑ کر جائیں گے تو پارٹی واقعی کمزور ہو جائے گی۔ میرے حساب سے مسلم لیگ نون میں دو گروپ ہیں، شہباز گروپ اور نواز گروپ اور اب یہ شہباز شریف والا گروپ طاقتور ہو جائے گا۔‘

دوسری طرف نواز لیگ کے رہنماؤں میں اب یہ بات زیر بحث ہے کہ شہباز شریف کے بعد کون ایسا ہو، جو پارٹی پالیسی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں کو بھی اسی رفتار سے جاری رکھے جس کے لیے شہباز شریف مشہور ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ نون لاہور کے صدر پرویز ملک نے وزارت اعلیٰ کے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ’دیکھیں اب تک تو تین امیدواروں کے ناموں پر گفتگو ہو رہی ہے جن میں حمزہ شہباز کا نام ہے جو کہ خاصے فیورٹ سمجھے جا رہے ہیں۔‘

Image caption ایسا کوئی نہیں جو شہباز شریف کو این اے 120 سے ہرا سکے: پرویز ملک، صدر مسلم لیگ نون لاہور

پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان اور رانا ثنا اللہ کے نام بھی ہیں۔ دیکھیں این اے 120 میاں نواز شریف کا بہت فیورٹ حلقہ ہے اور اسی وجہ سے یہاں شہباز شریف کی پوزیشن مضبوط ہے، ایسا کوئی نہیں جو انھیں یہاں سے ہرا سکے۔‘

فیصلو ہو تو جہان خان جیسا ورنہ نہ ہو!

دھیمے مزاج اور صلح جُو طبیعت کے مالک

’اگر مدمقابل عمران خان خود آتے تو مزہ آتا۔ فی الحال انھوں نے اعلان کیا ہے کہ یہاں سے ڈاکٹر یاسمین راشد الیکشن میں کھڑی ہوں گی، جو پہلے 2013 میں بھی یہاں سے الیکشن لڑ چکی ہیں۔ تو دیکھیں، یہ مقابلہ دلچسپ ہو گا۔‘

اگر حلقہ این اے 120 پر نظر ڈالیں تو سپریم کورٹ کے فیصلے میں وزیر اعظم کے نااہل ہونے کے باوجود حلقے کے پرانے ووٹر اب بھی نواز شریف کے لیے ہمدردی کا جزبہ رکھتے ہیں اور پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ جب مسلم لیگ نون کے قائد خود کسی کی انتخابی مہم چلائیں تو اس کی ہار بہت مشکل ہے۔

اسی بارے میں