انڈین مسلمان قانون کا پاس رکھیں: جناح

ایسٹرن ٹائمز تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption جناح کی انڈیا کے مسلمانوں کو نئی ریاست سے وفاداری کی ہدایت

(یکم سے پندرہ اگست تک آپ ہر روز تین اخبارات ڈان، دی ہندوستان ٹائمز اور ایسٹرن ٹائمز میں 70 برس پہلے شائع ہونے والی خبروں کا خلاصہ یہاں پڑھ سکیں گے)

دی ایسٹرن ٹائمز

مصدقہ اطلاعات کے مطابق مسٹر جناح نے انڈیا کی آئین ساز اسمبلی کے مسلمان اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسمبلی کے کام میں تعاون کریں اور ہندوستان کے وفادار اور قانون کا پاس رکھنے والے شہری بن کر رہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ مسلمان ارکان کی بڑی تعداد نے مسٹر جناح سے انڈیا میں اپنے مقام یعنی حیثیت کے بارے میں سوالات کیے۔ اطلاعات کے مطابق مسٹر جناح نے ان سے کہا کہ انہیں پاکستان سے کسی مدد کی توقع نہیں کرنی چاہیے اور خود پر بھروسہ کرتے ہوئے نئے حالات کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان کی زبان ہندی بنتی ہے تو انہیں وہ سیکھنی چاہیے، ویسے ہی جیسے انھوں نے انگریزی سیکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Librar
Image caption انڈیا پاکستان کی اقلیتوں کے لیے لیاقت علی خان کی ہدایت

ڈان

آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری لیاقت علی خان نے انڈیا اور پاکستان میں تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ ماضی کو اس کی تمام تر تلخ یادوں کے ساتھ دفن کر دیں۔ خبر کے مطابق انھوں نے اقلیتوں کے بارے میں کہا کہ 'اب ان کا فرض ہے کہ وہ تمام تر توانائیوں کے ساتھ اپنے اپنے ملک کی اکثریت کے ساتھ مل جائیں اور اپنی شناخت اپنے ہم وطنوں کے ساتھ ایک کر دیں۔'

انھوں نے اپنا بیان اس امید پر ختم کیا کہ دونوں ممالک میں اکثریتیں ایسے اقدامات اور باتیں نہیں کریں گی جن سے اقلیتوں کے جذبات مجروح ہوں اور جس سے اس تاریخی موقع کی خوشی مانند پڑ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption گاندھی کا کشمیر پہلا دورہ

دی ہندوستان ٹائمز

سرینگر میں سڑک کے کنارے کھڑے ہزاروں لوگوں نے 'مہاتما گاندھی' کا استقبال کیا۔ وہاں پر 'گاندھی جی کی جے' اور شیخ عبداللہ کی جے' کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ مسٹر گاندھی کا یہ کشمیر کا پہلا دورہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسٹر گاندھی کی کشمیر کے مہاراجہ سے بھی ملاقات ہو گی۔

خبر کے مطابق بیگم شیخ عبداللہ جنہوں نے 'گاندھی جی' کا استقبال کیا وہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس کے علاوہ کشمیر نیشنل کانفرنس کے تمام رہنما اور کارکن ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

اسی بارے میں