’پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خوراک کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

عالمی ادارۂ برائے خوراک کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں خوراک کی فراہمی میں اضافہ ہوا ہے جس سے خوراک کی کمی کے شکار افراد کی تعداد میں 20 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ اعداد و شمار پاکستان کی سات قبائلی ایجنسیوں سے سنہ 2014 سے 2017 تک لیے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے سنہ 2014 سے پہلے ان قبائلی علاقوں میں 44 فیصد افراد خوراک کی کمی کا شکار تھے یا انھیں مکمل خوراک دستیاب نہیں تھی لیکن اب ان کی تعداد 24 فیصد ہوگئی ہے جنھیں اب بھی خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

فوجی آپریشن کے باعث بے گھر ہونے والے 70 ہزار خاندان واپسی کے منتظر

دہشت گردی کے خلاف 'رد الفساد' کے نام سے نیا آپریشن

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق اس رپوٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2008 کے بعد فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں کو باترتیب واپسی ہوئی ہے اور ان کے اپنے علاقوں میں خوراک کی فراہمی بہتر ہوئی ہے۔

یہ رپورٹ گذشتہ روز جاری کی گئی لیکن اس میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کا کوئی باقاعدہ ذکر نہیں ہے۔

جنوبی وزیرستان سے سنہ 2009 اور شمالی وزیرستان سے سنہ 2014 سے لگ بھگ 20 لاکھ لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے جن کی واپسی کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

اس عرصے کے دوران خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسی کے بیشتر علاقوں سے لوگ نقل مکانی پر مجبور تھے جبکہ باجوڑ اور مہمند ایجنسی کی بڑی تعداد اس عرصے میں اپنے علاقوں کو واپس جا چکے تھے۔

اس بارے میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ برائے خوراک کی متعلقہ افسر سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں اعلیٰ حکام سے رابطہ کرکے رد عمل دیں گی۔

رپورٹ میں مذید کہا گیا ہے کہ سنہ 2014 میں خوراک کی شدید قلت کے شکار افراد کی تعداد پانچ فیصد تھی اور اب یہ تعداد کم ہو کر ایک فیصد تک رہ گئی ہے۔

رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ خوراک کی فراہمی میں بہتری کی مختلف وجوہات ہیں۔

قبائلی علاقوں میں لوگ قدرتی آفات اور مختلف بیماریوں کا شکار رہے لیکن اس کے بعد انھیں بہتر حالات فراہم کیے گئے جن میں ان علاقوں میں صاف پانی اور خوراک کی فراہمی کے علاوہ دیگر اقدامات کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے متاثرین کو امداد کی فراہمی اور خاندان کی خواتین سرابراہ کو فوقیت دی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے خاندان جن کی سربراہ خواتین ہیں ان میں خوراک کی کمی کا مسئلہ 100 فیصد حل ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں