’جسٹس کھوسہ عمران خان کو جانتے ہیں اور نہ ملاقات ہوئی‘

سپریم کورٹ آف پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے کچھ حصوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کے درمیان گفتگو کے حوالے سے جو تاثر دیا گیا ہے وہ بالکل بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان اعلیٰ عدالت کے سینئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کو جانتے ہیں اور نہ ہی انھوں نے کبھی ذاتی حیثیت میں ان سے ملاقات کی ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار ارباب محمد عارف کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق مذکورہ خبروں میں یہ تاثر دیا گیا کہ عمران خان نے ایک انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ان سے کہا تھا کہ وہ پاناما پیپرز سکینڈل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائیں، لیکن یہ الزام قطعاً بے بنیاد اور غلط ہے۔

پاناما کیس کا فیصلہ جلد سنائیں، عمران خان کی سپریم کورٹ سے درخواست

سپریم کورٹ نے یہ وضاحتی بیان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ایک نجی ٹی وی چینل پر دیے گئے انٹرویو کے حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں جاری بحث کے تناظر میں جاری کیا ہے۔ میڈیا میں رپورٹ ہونے والے اس انٹرویو میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ انھیں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ’درخواست‘ کی تھی کہ وہ پاناما سکینڈل کے بارے میں ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کریں۔

رجسٹرار کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ یکم نومبر سنہ 2016 کو پاناما پیپرز سکینڈل سے متعلق کئی ایک آئینی درخواستوں کی سماعت ہونا تھی اور ان کی سماعت اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی بنچ نے کرنا تھی اور جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی اس بنچ میں شامل تھے۔

بیان کے مطابق جب یکم نومبر کی سماعت ختم ہونے کے قریب تھی تو جسٹس کھوسہ نے دونوں فریقین کے وکلا کو مخاطب کر کے کھلی عدالت میں کہا کہ اب جبکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے اس معاملے کو دیکھنا شروع کر دیا ہے تو فریقین کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ 'اپنی لگامیں کھینچ لیں' اور اگلے دن اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے حوالے سے کیے گئے انتظامات پر نظر ثانی کر لیں۔

رجسٹرار کے مطابق جسٹس کھوسہ نے کھلی عدالت میں یہ ریمارکس اس خیال سے دیے تھے کہ اگر دو نومبر کو اسلام آباد میں تحریک انصاف کا دھرنا ہوتا ہے اور حکومت اسے روکنے کی کوشش کرتی ہے تو ہنگامہ آرائی ہو گی اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اور 'ایسا لگتا ہے کہ جسٹس کھوسہ کے اس مشورے پر توجہ دی گئی اور اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا مطالبہ واپس لے لیا گیا۔'

بیان کے مطابق ملک کے تمام بڑے ٹی وی چینلز پر یہ خبر اسی رات چلائی گئی جبکہ اگلے روز یعنی دو نومبر کو تمام بڑے اخبارات میں بھی جسٹس کھوسہ کے یہ ریمارکس شائع ہوئے۔ یہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے اور سیاستدانوں، صحافیوں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سمیت عدالت کی کارروائی سننے والے سینکڑوں افراد تصدیق کر سکتے ہیں کہ اس واقع کی اصل حقیقت یہی ہے۔

رجسٹرار ارباب محمد عارف کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس کھوسہ نے زندگی بھر نہ تو کبھی ذاتی حیثیت میں عمران خان سے ملاقات یا کوئی بات کی ہے اور نہ ہی ان کی اِن صاحب سے کوئی شناسائی ہے۔

بیان کے مطابق سپریم کورٹ میں پاناما پیپرز سے متعلق آئینی درخواستیں یکم نومبر 2016 سے مہینوں پہلے سماعت کے لیے جمع کرائی جا چکی تھیں، اس لیے 'مذکورہ انٹرویو میں کہے گئے الفاظ کو جس طرح توڑ موڑ کر بیان کیا گیا ہے، وہ بدقسمتی سے دروغ گوئی ہے۔'

واضح رہے کہ عمران خان کے مذکورہ بیان کے بعد متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے سپریم کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انٹرویو اور جلسے کے دوران عمران خان کے الفاظ عدالت اور جج صاحبان کی ساکھ، سالمیت اور عزت و وقار کو خراب کرنے اور بدنام کرنے کی کوشش تھی۔

دوسری جانب عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں واضح کیا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ سے منسوب ان کے الفاظ کو سیاسی مخالفین جان بوجھ کر توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں